کاروبار اور معیشت

ملکی تجارتی خسارے میں 23 فیصد اضافہ، جولائی تا مارچ حجم 28 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

  • گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں تجارتی خسارہ 22.67 ارب ڈالر رہا تھا
شائع اپ ڈیٹ

رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران ملکی تجارتی خسارے میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 22.65 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد خسارہ 27.81 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں ملک کا تجارتی خسارہ 22.67 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا، اس عرصے میں برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث سالانہ بنیادوں پر تجارتی خسارے میں وسعت دیکھی گئی۔

رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں برآمدات 22.73 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 24.72 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8 فیصد کم ہیں۔ اس کے برعکس درآمدات 50.54 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ سال کے 47.39 ارب ڈالر کے مقابلے میں 6.64 فیصد زیادہ ہیں۔

دریں اثنا مارچ 2026 میں پاکستان کی برآمدات 2.26 ارب ڈالر رہیں، جو مارچ 2025 کے 2.64 ارب ڈالر کے مقابلے میں 14.4 فیصد کم ہیں۔ دوسری جانب مارچ 2026 میں درآمدات 4.99 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 5.28 ارب ڈالر کے مقابلے میں 5.37 فیصد کم رہیں۔

مارچ 2026 میں ملک کا تجارتی خسارہ 2.73 ارب ڈالر رہا، جو مارچ 2025 کے 2.63 ارب ڈالر کے مقابلے میں 3.71 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم ماہانہ بنیادوں پر فروری 2026 کے 3.01 ارب ڈالر کے مقابلے میں مارچ میں تجارتی خسارے میں 9.36 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔