کاروبار اور معیشت

شمسی پینلز اور انورٹرز: پی ایس اے کی 130 فیصد ایم آر پی ویلیوایشن کی تجویز

  • اس سے موجودہ ٹیکس نظام کو زیادہ ریونیو کے قابل بنایا جا سکے گا، سولر ایسوسی ایشن
شائع March 29, 2026 اپ ڈیٹ March 29, 2026 11:17am

پاکستان سولر ایسوسی ایشن نے شمسی پینلز اور انورٹرز کی قیمتوں کے لیے 130 فیصد میکسیمم ریٹیل پرائس (ایم آر پی) ویلیویشن کا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی ہے تاکہ موجودہ ٹیکس نظام کو زیادہ ریونیو کے قابل بنایا جا سکے، غیر قانونی مارکیٹ کی حوصلہ شکنی ہو اور قانونی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

پاور ڈویژن کو بھیجے گئے خط میں ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ فنانس ایکٹ 2026 کے تحت شمسی پینلز پر 10 فیصد جنرل سیلز ٹیکس جبکہ انورٹرز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ اس مختلف اور متعدد مراحل پر مشتمل ٹیکس نظام کے باعث مارکیٹ میں قیمتوں کی بگاڑ، تعمیل کے پیچیدہ تقاضے اور آڈٹ و قانونی چارہ جوئی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

ایسوسی ایشن کے مطابق شمسی مصنوعات بنیادی طور پر حتمی صارفین کے استعمال کے لیے درآمد اور نصب کی جاتی ہیں اور یہ بار بار کی تجارت کے بجائے مستقل تنصیب کے لیے ہوتی ہیں۔ اس لیے ان پر ایک ہی مرحلے میں ٹیکس عائد ہونا چاہیے، جیسا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تھرڈ شیڈول کے اصولوں میں درج ہے۔

تجویز کے مطابق شمسی پینلز اور انورٹرز کو تھرڈ شیڈول میں شامل کیا جائے تاکہ درآمد یا پیداوار کے مرحلے پر ہی ٹیکس وصول کیا جا سکے۔ اس سے ریٹیل قیمت کے تعین کے ذریعے سنگل اسٹیج ٹیکسیشن ممکن ہوگی، ریکارڈ بہتر ہوگا اور غیر ضروری آڈٹ تنازعات کم ہوں گے۔

ایف بی آر کو بتایا گیا ہے کہ اس نظام کے تحت درآمدی مرحلے پر ٹیکس کا اطلاق 130 فیصد ریٹیل قیمت پر ہوگا جس سے حکومت کو زیادہ فوری آمدن حاصل ہوگی اور شفافیت بڑھے گی۔ اس سے ریونیو لیکیج کم ہونے اور نفاذ میں بہتری کی توقع ہے۔

ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ موجودہ پیچیدہ ٹیکس ڈھانچہ کاروباری لاگت بڑھا رہا ہے اور منظم شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ تھرڈ شیڈول میں شمولیت سے ٹیکس میں یکسانیت آئے گی، قانونی تنازعات کم ہوں گے اور قابلِ دستاویز کاروبار کو فروغ ملے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران شمسی پینلز کی درآمد 19 ارب واٹ سے زائد رہی جس کی مالیت 1.71 ارب ڈالر تھی۔ اس پر 10 فیصد سیلز ٹیکس کے تحت 48.89 ارب روپے بنتے ہیں جبکہ 130 فیصد ایم آر پی نظام کے تحت یہ 63.55 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے، یعنی حکومت کو 14.66 ارب روپے اضافی آمدن حاصل ہوگی۔

اسی طرح انورٹرز کی درآمد 410.14 ملین ڈالر رہی جس پر موجودہ 18 فیصد ٹیکس کے تحت 21.10 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ 130 فیصد ایم آر پی کے تحت یہ 27.43 ارب روپے ہو سکتے ہیں، یعنی 6.33 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔

ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ایم آر پی نظام نہ صرف ٹیکس وصولی کو مؤثر بنائے گا بلکہ شفافیت میں اضافہ، غیر رسمی مارکیٹ کی حوصلہ شکنی اور قیمتوں میں یکسانیت بھی پیدا کرے گا۔ اس نے ایف بی آر پر زور دیا ہے کہ شمسی پینلز اور انورٹرز کے لیے تھرڈ شیڈول کے تحت 130 فیصد ایم آر پی ویلیویشن کو اپنایا جائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026