مارکٹس

اصلاحاتی مہم کے تحت ایس ای سی پی کی بلوچستان کے لیے 7 پنشن فنڈز کی منظوری

  • یہ اقدام پاکستان کے روایتی نظام سے ایک زیادہ پائیدار اور شفاف فریم ورک کی جانب وسیع تر منتقلی کا حصہ ہے
شائع March 25, 2026 اپ ڈیٹ March 25, 2026 09:40pm

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے حکومتِ بلوچستان کے لیے سات پنشن فنڈز کی منظوری دے دی ہے، جو صوبے میں ڈیفائنڈ کنٹریبیوشن (ڈی سی) پنشن ماڈل کے نفاذ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

یہ اقدام پاکستان کے روایتی ڈیفائنڈ بینیفٹ (ڈی بی) نظام سے ایک زیادہ پائیدار اور شفاف ڈیفائنڈ کنٹریبیوشن فریم ورک کی جانب وسیع تر منتقلی کا حصہ ہے، جس کا مقصد طویل المدتی مالی دباؤ کو کم کرنا ہے۔

ایس ای سی پی کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا پہلے ہی کنٹریبیوٹری پنشن اسکیمیں متعارف کرا چکے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت اور سندھ میں متعلقہ پنشن فنڈ اسٹرکچرز کو فعال بنانے کا عمل جاری ہے۔

ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں نئے پنشن نظام کی جانب منتقلی کے لیے درکار قانونی فریم ورک متعارف کرا چکی ہیں۔

بلوچستان کے لیے منظور شدہ فنڈز بلوچستان کنٹریبیوٹری پنشن اسکیم رولز 2025 کے تحت کام کریں گے، اور ان کا انتظام ایس ای سی پی سے لائسنس یافتہ اے ریٹڈ اثاثہ منیجرز کے سپرد ہوگا، جن میں اٹلس ایسٹ مینجمنٹ لمیٹڈ، اے بی ایل ایسٹ مینجمنٹ لمیٹڈ، پاک قطر فیملی تکافل لمیٹڈ، فیصل ایسٹ مینجمنٹ لمیٹڈ اور المیزان انویسٹمنٹ مینجمنٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔

ایس ای سی پی نے ان فنڈز کی آفرنگ دستاویزات کی بھی منظوری دے دی ہے، جبکہ مزید 17 پنشن فنڈز کی منظوری کے لیے درخواستیں زیرِ غور ہیں۔

ڈیفائنڈ کنٹریبیوشن ماڈل کے تحت پنشن فوائد ملازمین اور آجر کی جانب سے انفرادی اکاؤنٹس میں جمع کرائی جانے والی رقوم پر مبنی ہوتے ہیں، جن کی واپسی سرمایہ کاری کی کارکردگی سے منسلک ہوتی ہے۔

یہ نظام شفافیت بڑھانے، ملازمین کو ریٹائرمنٹ بچت پر زیادہ اختیار دینے اور حکومت پر طویل المدتی پنشن واجبات کا بوجھ کم کرنے کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے۔

ایس ای سی پی کے مطابق ادارہ ملک بھر میں پنشن اصلاحات کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے، تاکہ مالیاتی استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔