امریکی پابندیوں میں نرمی: بھارت سمیت ایشیائی ریفائنریز کا ایرانی تیل خریدنے پر غور
- حکومتی ہدایات اور واشنگٹن کی جانب سے ادائیگی کی شرائط جیسی تفصیلات پر وضاحت کے منتظر ہیں، ذرائع
تاجروں نے ہفتہ کو بتایا کہ بھارتی ریفائنریز نے ایرانی تیل کی خریداری دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے جبکہ ایشیا کے دیگر حصوں میں موجود ریفائنریز بھی اس طرح کے اقدام کا جائزہ لے رہی ہیں۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن نے ایران پر امریکہ-اسرائیل جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران (انرجی کرنچ) میں کمی لانے کے لیے عارضی طور پر پابندیاں ختم کر دی ہیں۔
بھارت کی ریفائننگ سے وابستہ 3 ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی تیل خریدیں گے اور اس سلسلے میں حکومتی ہدایات اور واشنگٹن کی جانب سے ادائیگی کی شرائط جیسی تفصیلات پر وضاحت کے منتظر ہیں۔
بھارت، جس کے پاس ایشیا کے دیگر بڑے تیل درآمد کنندگان کے مقابلے میں خام تیل کے ذخائر (اسٹاک پائلز) بہت کم ہیں، نے حال ہی میں امریکہ کی جانب سے عارضی طور پر پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد روسی تیل کی بکنگ کے لیے بھی تیزی دکھائی تھی۔
دفتر کے اوقات ختم ہونے کی وجہ سے بھارتی حکومت سے اس معاملے پر فوری طور پر رابطہ نہیں کیا جا سکا۔
معاملے سے باخبر کئی افراد کا کہنا ہے کہ ایشیا کی دیگر ریفائنریز بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا وہ یہ تیل خرید سکتی ہیں یا نہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے جمعہ کو سمندر میں موجود ایرانی تیل کی خریداری کے لیے 30 دن کی عبوری رعایت (سینکشنز ویور) جاری کی ہے۔
آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول کے مطابق اس رعایت کا اطلاق کسی بھی بحری جہاز پر لدے ہوئے تیل پر ہوتا ہے، بشمول ان ٹینکرز کے جن پر پابندیاں عائد ہیں، بشرطیکہ وہ 20 مارچ یا اس سے قبل لوڈ کیے گئے ہوں اور 19 اپریل تک اتار دیے جائیں۔ جنگ کے آغاز کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ امریکہ نے تیل پر سے عارضی طور پر پابندیاں اٹھائی ہیں۔