ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0.21 فیصد اضافہ
- سالانہ بنیادوں پر ایس پی آئی میں 7.04 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا
ادارہ شماریات کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 18 مارچ 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ (ایس پی آئی) پر مبنی مہنگائی میں 0.21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بنیادی وجہ ٹماٹر، مرغی اور روٹی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
زیرِ نظر ہفتے کے دوران ٹماٹر کی قیمتوں میں 24.85 فیصد، مرغی کی قیمت میں 7.33 فیصد اور روٹی کی قیمت میں 1.08 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دیگر اشیاء جن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ان میں انرجی سیور (0.91 فیصد)، پکی ہوئی دال (0.65 فیصد)، سرسوں کا تیل (0.41 فیصد)، سگریٹ (0.40 فیصد)، جارجٹ کپڑا (0.39 فیصد)، لکڑی (0.36 فیصد)، آلو (0.33 فیصد)، انڈے (0.31 فیصد) اور پکا ہوا بیف (0.22 فیصد) شامل ہیں۔
اس کے برعکس اس ہفتے کئی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ لہسن کی قیمت میں 4.76 فیصد، ایل پی جی میں 2.67 فیصد، پیاز میں 2.52 فیصد، مسور کی دال میں 1.34 فیصد، آٹے میں 1.05 فیصد، چینی میں 0.76 فیصد، گڑ میں 0.65 فیصد، کیلے میں 0.42 فیصد اور چنے کی دال میں 0.11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایس پی آئی باسکٹ میں شامل 51 اشیاء میں سے 18 اشیاء (35.29 فیصد) کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، 9 اشیاء (17.65 فیصد) کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ 24 اشیاء (47.06 فیصد) کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
سالانہ بنیادوں پر ایس پی آئی میں 7.04 فیصد اضافہ ہوا جس کی بڑی وجوہات میں ڈیزل (29.94 فیصد)، پہلی سہ ماہی کے گیس چارجز (29.85 فیصد)، آٹا (26.46 فیصد)، پٹرول (25.75 فیصد)، ایل پی جی (23.86 فیصد)، لال مرچ پاؤڈر (15.20 فیصد)، بیف (11.72 فیصد)، خشک دودھ (10.10 فیصد)، مٹن (9.61 فیصد)، گڑ (7.06 فیصد)، ٹوٹا باسمتی چاول (6.51 فیصد) اور پکا ہوا بیف (5.40 فیصد) کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔
دریں اثنا سالانہ بنیادوں پر بھی بعض اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جس کے مطابق آلو کی قیمت میں 50.52 فیصد، مرغی میں 20.03 فیصد، انڈوں میں 19.81 فیصد، دال چنا میں 18.55 فیصد، لہسن میں 17.53 فیصد، پسا ہوا نمک 12.55 فیصد، چینی 11.92 فیصد اور دال مسور کی قیمت میں 11.80 فیصد کمی واقع ہوئی۔
کم آمدنی والے طبقے (جن کی ماہانہ آمدنی 17,732 روپے تک ہے) کے لیے مہنگائی میں 0.18 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس سے ایس پی آئی کی سطح 325.62 سے بڑھ کر 326.22 پوائنٹس پر پہنچ گئی، اسی طرح 17,733 سے 22,888 روپے ماہانہ آمدنی والوں کے لیے ایس پی آئی میں 0.21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 329.25 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔
22,889 سے 29,517 روپے آمدن والے گھرانوں کے لیے ایس پی آئی میں 0.20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 350.92 پوائنٹس تک پہنچ گیا جب کہ 29,518 سے 44,175 روپے آمدن والے طبقے میں ایس پی آئی 0.22 فیصد بڑھ کر 338.82 پوائنٹس ہو گیا۔
سب سے زیادہ آمدن والے گروپ (44,175 روپے اور اس سے زائد) کے لیے بھی 0.20 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد ایس پی آئی 341.97 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026