فروری کے دوران بجلی کی پیداوار میں 11 فیصد اضافہ، کوئلہ سرِفہرست
- پہلے8 ماہ کے دوران بجلی کی مجموعی پیداوار سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد اضافے کے ساتھ 84,192 گیگا واٹ آور تک پہنچ گئی
فروری 2026 کے دوران پاکستان میں بجلی کی پیداوار 7,696 گیگا واٹ آور تک پہنچ گئی جو فروری 2025 میں ریکارڈ کی گئی پیداوار کے مقابلے میں سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد زیادہ ہے۔
فروری 2025 میں بجلی کی مجموعی پیداوار 6,945 گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی تھی۔
معروف بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ نے بدھ کو ایک رپورٹ میں بتایا کہ ہمارا ماننا ہے کہ پیداوار میں یہ اضافہ طلب میں بہتری کی وجہ سے ہوا، جسے بجلی کے نرخوں میں کمی اور صنعتی صارفین کے نیشنل گرڈ پر منتقل ہونے سے تقویت ملی۔
ماہانہ بنیادوں پر جنوری 2026 میں ریکارڈ کی گئی 9,140 گیگا واٹ آور بجلی کی پیداوار کے مقابلے میں فروری میں 16 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
تاہم مالی سال 2026 کے پہلے8 ماہ (جولائی تا فروری) کے دوران بجلی کی مجموعی پیداوار سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد اضافے کے ساتھ 84,192 گیگا واٹ آور تک پہنچ گئی جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں 81,738 گیگا واٹ آور تھی۔
دوسری جانب بجلی پیدا کرنے کی مجموعی لاگت سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافے کے ساتھ فروری 2026 میں 8.15 روپے فی کلو واٹ آور تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 7.57 روپے فی کلو واٹ آور تھی۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ ہائیڈل (پن بجلی) اور نیوکلیئر توانائی کے تناسب میں کمی جبکہ درآمدی کوئلے کے استعمال میں اضافہ ہے۔
ماہانہ بنیادوں پر بجلی کی پیداواری لاگت جنوری 2026 میں ریکارڈ کی گئی 11.64 روپے فی کلو واٹ آور کے مقابلے میں 30 فیصد کم رہی۔
فروری میں کوئلہ بجلی کی پیداوار کے سب سے بڑے ذریعے کے طور پر ابھرا، جس کا بجلی کی پیداوار کے مجموعی تناسب میں حصہ 30.9 فیصد رہا اور یوں یہ بجلی پیدا کرنے والا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا۔
کوئلے کے بعد پن بجلی دوسرا بڑا ذریعہ رہا جس کا مجموعی پیداوار میں حصہ 23.2 فیصد رہا۔ اس کے بعد نیوکلیئر توانائی کا نمبر آتا ہے جس نے بجلی کی پیداوار میں 18.8 فیصد حصہ ڈالا جبکہ گیس اور آر ایل این جی کا تناسب بالترتیب 11.5 فیصد اور 9.5 فیصد رہا۔
قابلِ تجدید ذرائع میں ونڈ اور شمسی توانائی کی پیداوار بالترتیب 3.3 فیصد اور 1.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔