ای سی سی نے 3 ارب روپے کی گیس اسکیموں، 3.63 ارب روپے کی ڈیزاسٹر فنڈنگ، پاور سیکٹر میں اصلاحات کی منظوری دیدی
- کمیٹی نے مالی سال 2025-26 کے دوران پی ایس ڈی پی اسکیموں کے نفاذ کے لیے 1.3 بلین روپے کے ٹی ایس جی کی بھی منظوری دی
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعہ کو متعدد تکنیکی ضمنی گرانٹس ( ٹی ایس جیز)، آفات سے نمٹنے اور تعلیمی ادائیگیوں کے لیے فنڈنگ، اور بجلی کے شعبے میں اصلاحاتی پیکیج کی منظوری دی، جس کا مقصد بجلی کی پیداوار کے اخراجات کم کرنا اور سرکلر قرض کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے فائنانس ڈویژن میں ای سی سی اجلاس کی صدارت کی، جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے جمع کرائی گئی کئی سمریز کو کلیئر کیا گیا۔
کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کی وہ سمری منظور کی جس میں پاکستان کی سالانہ شراکت کے لیے 13.1 ملین روپے کی ٹی ایس جی کی درخواست کی گئی تھی، اور کہا گیا کہ بین الاقوامی توانائی فورم ( ائی ای ایف) کی رکنیت جاری رکھنا ملک کے عالمی توانائی مذاکرات اور تعاون میں حصہ لینے کے لیے اہم ہے۔
اس کے علاوہ، کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کی ایک اور سمری بھی منظور کی، جس میں گیس پیداوار کے میدانوں کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں گاؤں میں گیس سپلائی اسکیمز کے لیے 3 ارب روپے کی ٹی ایس جی کی درخواست کی گئی تھی۔
ان اسکیموں پر عملدرآمد سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ ( ایس ایس جی سی ایل ) اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ ( ایس این جی پی ایل) کے ذریعے کیا جائے گا۔
ای سی سی نے وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی ایک سمری بھی منظور کی جس میں مالی سال 2025-26 کے دوران بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز ( بی ای سی ایس) کے اساتذہ کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے 20 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ ( ٹی ایس جی) کی درخواست کی گئی تھی۔
یہ ادائیگیاں عدالتوں کی ہدایات کے تحت کی جا رہی ہیں، جن کا تعلق اگست 2017 سے جون 2021 کے عرصے کے دوران نوٹیفائیڈ کم از کم اجرت کے مطابق تنخواہوں کے فرق سے ہے۔
کمیٹی نے اسی وزارت کی ایک اور تجویز پر بھی غور کیا جس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن ( ایچ ای سی) کے لیے ہائر ایجوکیشن ڈیولپمنٹ ان پاکستان ( ایچ ای ڈی پی) منصوبے کے تحت اضافی 40 لاکھ ڈالر کی رقم کے لیے ری لینڈنگ شرائط سے استثنا دینے کی درخواست کی گئی تھی۔
ای سی سی کو بتایا گیا کہ ورلڈ بینک نے یہ فنڈز انویسٹمنٹ پراجیکٹ فنانسنگ/ٹیکنیکل اسسٹنس جزو کے لیے مختص کیے ہیں، جس سے ایچ ای سی کا حصہ پہلے سے مستثنیٰ قرار دیے گئے 7 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سے بڑھ گیا ہے۔
ایک اور فیصلے میں ای سی سی نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے) کی سمری منظور کی جس میں مون سون رسپانس 2025 آپریشنز اور بیرونِ ملک انسانی امداد کے دوران ہونے والے اخراجات کی واپسی کے لیے 3 ارب 63 کروڑ روپے کی ٹی ایس جی طلب کی گئی تھی۔
کمیٹی نے پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کے تحت مالی سال 2025-26 میں سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گولز اچیومنٹ پروگرام (ایس اے پی) کی اسکیموں پر عملدرآمد کے لیے 1 ارب 30 کروڑ روپے کی ٹی ایس جی کی بھی منظوری دی۔
ادھر ای سی سی نے وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کی جانب سے پیش کیا گیا ایک جامع اصلاحاتی پیکیج بھی منظور کر لیا، جس کا مقصد بجلی کی پیداوار کے اخراجات کم کرنا، پرانے ادائیگی واجبات سے نمٹنا اور سرکلر قرض کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ مجوزہ اقدامات متعدد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں اور ان کا مقصد ٹیرف ڈھانچے کو معقول بنانا، ادائیگی کے نظام کو بہتر بنانا اور باہمی طور پر طے شدہ طریقہ کار کے ذریعے بقایا مالی واجبات کو نمٹانا ہے۔
ای سی سی نے نوٹ کیا کہ یہ اقدام بجلی کے شعبے کی پائیداری میں بہتری، صارفین پر ٹیرف کے دباؤ میں کمی، اور وسیع تر ساختی اصلاحات کی حمایت کے لیے متوقع ہے۔
اس کے علاوہ، کمیٹی نے وزارتِ اطلاعات و نشریات کی ایک سمری پر غور کیا، جس میں وفاقی عوامی معلوماتی اور آگاہی مہمات سے متعلق بقایا واجبات کی ادائیگی کے لیے 22.31 ارب روپے کی ٹی ایس جی کی درخواست کی گئی تھی۔ ای سی سی نے 14.7 ارب روپے کی منظوری دی اور وزارت کو ہدایت دی کہ باقی رقم کی ضرورت اگلے سہ ماہی میں پیش کرے۔
اجلاس میں وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال چوہدری، وزیرِ سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ (ورچوئلی)، وزیرِ اعظم کے خاص معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کے ساتھ متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کے سینئر حکام بھی شریک ہوئے۔