پاکستان

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں افغان طالبان کے زمینی حملے، سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی، 67 کارندے ہلاک

  • وطن کا دفاع کرتے ہوئے ایک ایف سی جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے، وفاقی وزیر اطلاعات
شائع March 3, 2026 اپ ڈیٹ March 3, 2026 03:37pm

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے منگل کو تصدیق کی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں افغان طالبان کے بڑے پیمانے پر کیے گئے متعدد حملوں کو مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنادیا۔

آپریشنل اپ ڈیٹ فراہم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے آپریشن غضب للحق کی پیش رفت کے بارے میں بتایا اور انکشاف کیا کہ ان جھڑپوں کے دوران کم از کم 67 افغان کارندے ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان جھڑپوں میں ایک فوجی جوان شہید اور5 دیگر زخمی ہوئے۔

افغان طالبان نے شمالی بلوچستان میں قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن اضلاع میں 16 مقامات پر زمینی حملے کیے جب کہ 25 مقامات پر پاک افواج کے خلاف فائر ریڈ کی کارروائیاں کیں۔

وفاقی وزیر نے تصدیق کی کہ تمام مقامات پر حملوں کو مؤثر طور پر پسپا کردیا جس کے نتیجے میں افغان طالبان کے 27 کارندے ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ مادرِ وطن کا دفاع کرتے ہوئے ایف سی بلوچستان نارتھ کے ایک جوان شہید جبکہ پانچ جوان زخمی ہوئے۔

اسی طرح خیبر پختونخوا میں ایک مقام پر زمینی حملے کی کوشش کی گئی جب کہ 12 مقامات پر فائر ریڈ کیا گیا جنہیں بغیر کسی جانی نقصان کے ناکام بنا دیا گیا۔

خیبر پختونخوا میں رات بھر جاری کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے 40 کارندے ہلاک ہوئے۔ فالو اپ آپریشنز تاحال جاری ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے بیان دیا کہ متاثرہ علاقوں کو محفوظ بنانے کے لیے فالو اپ آپریشنز تاحال جاری ہیں۔ جاری فوجی جواب کے حوالے سے مزید تفصیلی بریفنگ آج کسی بھی وقت جاری کیے جانے کا امکان ہے۔