ڈرون حملے کے بعد سعودی آرامکو نے راس تنورہ ریفائنری بند کر دی
- خلیج کے ساحل پر واقع راس تنورہ کمپلیکس مشرقِ وسطیٰ کی بڑی ریفائنریوں میں شمار ہوتا ہے،
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے ڈرون حملے کے بعد راس تنورہ ریفائنری عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ ایک صنعتی ذریعے نے پیر کے روز بتایا کہ یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا، جبکہ صورتحال کو قابو میں قرار دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے ردعمل میں تہران نے خطے بھر میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
خلیج کے ساحل پر واقع راس تنورہ کمپلیکس مشرقِ وسطیٰ کی بڑی ریفائنریوں میں شمار ہوتا ہے، جس کی یومیہ پیداواری صلاحیت تقریباً 550,000 بیرل ہے۔ یہ سعودی خام تیل کی برآمدات کے لیے ایک اہم ٹرمینل بھی ہے۔ ذریعے کے مطابق ریفائنری کو حفاظتی نقطہ نظر سے بند کیا گیا اور فوری خطرے کی کوئی اطلاع نہیں۔
آرامکو نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ ڈرون حملہ خلیجی خطے میں حملوں کی اس لہر کا حصہ ہے جس میں ابوظہبی، دبئی، دوحہ، منامہ اور عمان کے تجارتی مرکز دقم کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے باعث متحدہ عرب امارات اور عمان کے بڑے بحری مراکز متاثر ہوئے ہیں جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں پیر کو تقریباً 10 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
یاد رہے کہ سعودی عرب کی توانائی تنصیبات ماضی میں بھی نشانہ بنتی رہی ہیں، خصوصاً ستمبر 2019 میں ابقیق اور خریص پلانٹس پر ڈرون اور میزائل حملوں نے وقتی طور پر ملک کی نصف سے زیادہ تیل پیداوار معطل کر دی تھی اور عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔