پاکستان

آپریشن غضب للحق: 331 افغان طالبان ہلاک، 500 سے زائد زخمی

104 طالبان چوکیوں کو مکمل تباہ کردیا گیا، 22 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں آگئیں، وزیرِ اطلاعات عطاء تارڑ
شائع February 28, 2026 اپ ڈیٹ February 28, 2026 11:15am

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء تارڑ  کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق میں 331 طالبان رجیم کے اہلکار و خوارج ہلاک اور 500 سے زائد زخمی کردیے گئے ہیں۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں وفاقی وزیر نے تازہ ترین تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے 104 طالبان چوکیوں کو مکمل تباہ کردیا گیا جبکہ 22 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں آ گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ طالبان رجیم کے تباہ کیے جانے والے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی تعداد 163 ہوگئی۔

عطاء تارڑ کے مطابق افغانستان بھر میں 37 مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔


پاکستان اور افغانستان کے درمیان جمعہ کو کشیدگی میں اس وقت شدید اضافہ ہوا جب افغان سرحد کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد اسلام آباد نے آپریشن غضب للحق کا آغاز کردیا۔

سیکیورٹی کے متعدد واقعات کے بعد تناؤ میں شدت آگئی، جس دوران اسلام آباد نے بارہا ان دہشت گرد گروہوں پر تشویش کا اظہار کیا جو مبینہ طور پر افغان سرزمین استعمال کر رہے تھے۔

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو پاکستان کی بھرپور حمایت کی اور افغانستان میں طالبان پر کیے جانے والے حملوں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ پاکستان انتہائی شاندار کارکردگی دکھا رہا ہے۔

قبل ازیں جمعہ کو ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس بریفنگ میں آپریشن غضب للحق کی تفصیلات بتائی تھیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ افغان طالبان کی افواج نے پاک افغان سرحد کے ساتھ 27 مقامات پر 15 سیکٹرز میں بلا اشتعال سرحد پار فائرنگ شروع کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ان حملوں کو موثر طریقے سے پسپا کیا اور جواب میں نپے تلے جوابی حملے کیے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی فضائی حملوں نے افغانستان بھر میں 22 مقامات پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں کابل، قندہار، پکتیا، ننگرہار، خوست اور پکتیکا کے صوبے شامل ہیں۔

ان فضائی حملوں میں افغان طالبان کی افواج کے مرکزی ہیڈ کوارٹرز، بریگیڈ اور بٹالین ہیڈ کوارٹرز، سیکٹر ہیڈ کوارٹرز، اسلحہ کے ڈپو اور لاجسٹک بیسز (امدادی مراکز) کو نشانہ بنایا گیا۔

احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ان تمام اہداف کا انتخاب انٹیلی جنس کی بنیاد پر انتہائی احتیاط سے کیا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ سویلین ہلاکتوں سے بچنے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں۔