پاک افغان کشیدگی: گزشتہ چار ماہ کا ایک جائزہ
- جمعے کی علی الصبح بلا اشتعال سرحدی فائرنگ پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز کا فوری اور موثر جواب، افغان طالبان کے کم از کم 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی
پاک افغان تعلقات میں گزشتہ چند ماہ سے شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے، جس کا نتیجہ جمعہ کی علی الصبح افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد اسلام آباد کی جانب سے آپریشن غضبِ حق کے آغاز کی صورت میں نکلا۔ سیکیورٹی کے پے در پے واقعات اور افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سرگرمیوں پر اسلام آباد کی تشویش کے باعث یہ تناؤ بڑھتا گیا۔ یہاں ان اہم واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے جو افغان طالبان کے خلاف پاکستان کے اس فوری اور موثر جواب کا سبب بنے۔
11 اکتوبر 2025
پاکستان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک کے سرحدی علاقوں میں شہریوں کو ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گردانہ خطرات سے بچانے کے لیے ٹارگٹڈ آپریشن کر رہی ہیں۔ تناؤ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب افغان افواج نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بلا اشتعال حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ہونے والی جھڑپوں میں 23 پاکستانی فوجی شہید اور 200 سے زائد طالبان و دیگر دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ پاک فوج نے افغانستان کے صوبہ قندھار اور کابل میں دہشت گردوں کے کیمپوں اور سرحدی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔دونوں فریقین نے بعد ازاں 48 گھنٹے کی جنگ بندی اور مذاکرات پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے اپنی سرحد بھی بند کر دی، تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردوں کی آمد و رفت کو روکا جا سکے۔
19 اکتوبر 2025
دوحہ، قطر میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام پر اتفاق کیا۔
26 اکتوبر 2025
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان امن چاہتا ہے، لیکن استنبول مذاکرات میں کسی معاہدے تک نہ پہنچنے کا مطلب کھلی جنگ ہوگا۔ ان مذاکرات کا مقصد دوحہ جنگ بندی کو طویل مدت تک نافذ کرنے کا طریقہ کار وضع کرنا تھا۔
14 نومبر 2025
وزارتِ اطلاعات نے کیڈٹ کالج وانا پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی تفصیلی رپورٹ جاری کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی اور ہدایات افغانستان سے دی گئیں اور اس میں وہاں مقیم خوارج نیٹ ورک کے دہشت گرد مکمل طور پر ملوث تھے۔
28 نومبر 2025
پاکستان نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ جنگ بندی کی مفاہمت کو موثر نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ یقین دہانیوں کے باوجود افغان سرزمین سے حملے جاری ہیں۔ اسلام آباد نے واضح کیا کہ یہ دو ریاستوں کے درمیان روایتی جنگ بندی نہیں تھی بلکہ ایک مفاہمت تھی کہ افغان سرپرستی میں کام کرنے والے گروہ پاکستان میں حملے بند کر دیں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اگر افغان شہری مسلسل حملے کر رہے ہیں تو ہم جنگ بندی کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں ہو سکتے۔
19 فروری 2026
وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ اسلام آباد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کے اندر فضائی آپریشن شروع کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ انہوں نے علاقائی عدم استحکام کو ان فیصلوں کی قیمت قرار دیا جو 1980 کی دہائی اور نائن الیون کے بعد کیے گئے تھے۔
22 فروری 2026
پاکستان نے کہا کہ اس کی مسلح افواج نے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں رمضان المبارک کے دوران ہونے والے خودکش حملوں کے قطعی ثبوت موجود ہیں کہ یہ کارروائیاں افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کے ایما پر خوارج نے کیں۔