یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام کا عمل آخری مرحلے میں، فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی بھی قریب

  • حکومت کا اس عمل سے 634 ملین ڈالر سے زائد کی ممکنہ آمدنی حاصل کرنے کا ہدف
شائع اپ ڈیٹ

10 مارچ کو ہونے والی اسپیکٹرم نیلامی سے قبل تین بڑی ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے 45 ملین ڈالر جمع کرائے جانے اور یوفون و ٹیلی نار کے انضمام کے آخری مراحل میں داخل ہونے کے ساتھ ہی پاکستان میں فائیو جی کے آغاز کا عمل فیصلہ کن مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔

یہ تفصیلات جمعرات کو امین الحق کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں سامنے آئیں۔ چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن نے تصدیق کی کہ جاز، یوفون اور زونگ نے پری بڈ زرِ ضمانت کے طور پر 15، 15 ملین ڈالر جمع کرائے ہیں، جس سے مجموعی رقم 45 ملین ڈالر ہو گئی ہے اور نیلامی کی باقاعدہ راہ ہموار ہو گئی ہے۔ حکومت کو اس عمل سے 634 ملین ڈالر سے زائد کی آمدنی کی توقع ہے۔

اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کا انضمام آخری مرحلے میں ہے اور اسے 10 مارچ کی نیلامی سے قبل مکمل کر لیا جائے گا۔ چیئرمین پی ٹی اے نے یقین دہانی کرائی کہ ریگولیٹر دستاویزات کا حتمی جائزہ لے رہا ہے اور اس عمل سے نیلامی کا شیڈول متاثر نہیں ہوگا۔ تاہم کمیٹی اراکین نے انضمام کے بعد مارکیٹ میں اجارہ داری کے خدشات ظاہر کیے، جس پر پی ٹی اے حکام نے واضح کیا کہ منصفانہ مقابلے کو یقینی بنانے کے لیے پہلے ہی حد (کیپ) مقرر کی جا چکی ہے۔

کمیٹی نے الیکٹرانک ٹرانزیکشنز (ترمیمی) بل 2026 پر مزید مشاورت کے لیے اسے موخر کر دیا۔ اجلاس میں آئی ٹی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے وزارتِ آئی ٹی کی کارکردگی پر بھی شدید تنقید کی گئی۔

کمیٹی ممبر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں اضافہ فری لانسرز کی دن رات کی محنت کا نتیجہ ہے نہ کہ وزارت کی کسی بڑی کامیابی کا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آئی ٹی سرمایہ کاروں کو مناسب ادارہ جاتی تعاون نہیں مل رہا اور ان کی اپنی تجاویز پر بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ جواب میں آئی ٹی سیکرٹری نے مؤقف اختیار کیا کہ عالمی سطح پر آئی ٹی برآمدات نجی شعبے کی مرہونِ منت ہوتی ہیں۔