کے پی حکومت کا دریا کنارے غیر قانونی کان کنی اور پلیسر گولڈ نکالنے پر پابندی کا فیصلہ
- فیصلہ صوبائی کابینہ کے 37 ویں اجلاس میں متعلقہ محکموں کی رپورٹس اور مشاورت کی روشنی میں کیا گیا
خیبر پختونخوا حکومت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر غیر قانونی کان کنی اور پلیسر گولڈ (سونا) نکالنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ، کرک اور ملحقہ علاقوں میں یہ پابندی 60 دنوں کے لیے نافذ رہے گی۔
یہ فیصلہ صوبائی کابینہ کے 37 ویں اجلاس میں متعلقہ محکموں کی رپورٹس اور مشاورت کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دریاؤں کے کناروں پر غیر قانونی کان کنی ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، جس سے پانی آلودہ، قدرتی مناظر تباہ اور مقامی آبادی کی صحت و سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ مزید برآں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایسی سرگرمیاں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے، مقامی گروہوں میں تصادم اور ایندھن کی اسمگلنگ کا سبب بن سکتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بعض منظم گروہ آپریشن کے دوران مزاحمت بھی کر سکتے ہیں، جس سے عوامی جانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ صوبائی کابینہ نے محکمہ معدنیات کو غیر قانونی کان کنی کے خلاف مربوط کارروائی کی ہدایت کی ہے، جس میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس بھرپور تعاون کریں گے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے تحت کارروائی کی جائے گی اور ان کی مشینری و گاڑیاں ضبط کر لی جائیں گی۔