دنیا

متنازع جزائر پر جاپانی تقریب کے خلاف جنوبی کوریا کا احتجاج

  • یہ چھوٹے جزائر، جنہیں جاپان میں تاکیشیما اور جنوبی کوریا میں ڈاکدو کہا جاتا ہے، طویل عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب رہے ہیں
شائع February 22, 2026 اپ ڈیٹ February 22, 2026 01:55pm

جنوبی کوریا نے اتوار کے روز جاپانی حکومت کی جانب سے متنازع جزائر کی یاد میں منعقدہ تقریب پر شدید احتجاج کیا اور اسے اپنی خودمختاری پر بلاجواز دعویٰ قرار دیا۔

جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ وہ جاپان کے شیمانے پریفیکچر میں منعقدہ تاکیشیما ڈے تقریب اور اس میں جاپانی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی شرکت پر سخت اعتراض کرتی ہے، اور ٹوکیو سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر یہ تقریب ختم کرے۔

یہ چھوٹے جزائر، جنہیں جاپان میں تاکیشیما اور جنوبی کوریا میں ڈاکدو کہا جاتا ہے، طویل عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب رہے ہیں۔ ان تنازعات کی جڑیں 1910 سے 1945 تک جزیرہ نما کوریا پر جاپان کی نوآبادیاتی حکمرانی سے جڑی ہوئی ہیں۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ ڈاکدو تاریخی، جغرافیائی اور بین الاقوامی قانون کے تحت واضح طور پر جنوبی کوریا کا خودمختار علاقہ ہے، اور جاپان سے مطالبہ کیا کہ وہ بے بنیاد دعوے ترک کرے اور تاریخ کا سامنا کرے۔

سیول نے جاپان کے ایک اعلیٰ سفارتکار کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔جس پر جاپانی وزارت خارجہ نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

یہ علاقہ ماہی گیری کے پانیوں پر واقع ہے اور جنوبی کوریا کے مطابق اس کے نیچے قدرتی گیس کے بڑے ذخائر بھی موجود ہو سکتے ہیں۔