عمران خان نے طویل وقفے کے بعد بیٹوں سے بات کی ہے، علیمہ خان کی تصدیق
- ان کا کہنا ہے کہ عمران کے علاج میں جان بوجھ کر تاخیر سے ان کی بینائی پہلے ہی خراب ہو گئی ہے
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسیر بانی عمران خان نے طویل عرصے بعد اپنے بیٹوں سے بات کی ہے، جس کی تصدیق ان کی بہن علیمہ خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی ہے۔
علیمہ خان نے لکھا ہے کہ ” چیف جسٹس آف پاکستان نے ہدایت دی تھی کہ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے۔ ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ وہ تقریباً 20 منٹ تک اپنے بیٹوں سے بات کر سکے۔ ان کے بیٹوں نے بتایا کہ اتنے عرصے بعد ان کی آوازیں سن کر وہ بے حد خوش ہوئے۔“
انہوں نے اپنے بیمار بھائی کے علاج میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر جب ایک ماہر امراض چشم کے معائنے میں یہ معلوم ہوا کہ عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی ختم ہونے کے قریب ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ ” اب ہم ان کے فوری طبی علاج کے منتظر ہیں، جو ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں کیا جائے گا، جہاں ماہر ڈاکٹر ہر ممکن کوشش کریں گے تاکہ ان کی بینائی بحال کی جا سکے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ بروقت علاج میں جان بوجھ کر تاخیر نے پہلے ہی ان کی بینائی کو نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ ” ہم کسی مزید تاخیر کو برداشت نہیں کر سکتے اور نہ کریں گے، اور کسی مستقل بینائی کے نقصان سے بچنے کے لیے فوری ماہر دیکھ بھال ضروری ہے۔“
سابق وزیراعظم کے وکیل نے جمعرات کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی کا 85 فیصد ختم ہو چکا ہے، ایک ایسا عذاب جو ان کی قانونی اور سیاسی جدوجہد میں مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
73 سالہ رہنما اگست 2023 سے جیل میں ہے، جہاں انہیں کرپشن کے الزامات پر 14 سال قید کی سزا دی گئی ہے، اور وہ خود کہتے ہیں کہ یہ درجنوں مقدمات من گھڑت ہیں تاکہ انہیں سیاست سے دور رکھا جا سکے۔
ان کے وکیل سلمان صفدر نے جمعرات کے روز رپورٹ میں بتایا ہے کہ ” ان کی دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی باقی رہ گئی ہے۔“
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے اکتوبر 2025 سے مسلسل دھندلی اور غیر واضح نظر کی شکایت کی تھی، لیکن جیل حکام نے کوئی اقدام نہیں کیا۔
سلمان صفدر نے یہ رپورٹ سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمران خان سے دو گھنٹے کی ملاقات کے بعد جمع کرائی، جس نے حکام کو 16 فروری تک ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت دینے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔
اطلاعات کے وزیر عطا اللہ تارڑ کے مطابق عمران کو اس ماہ اسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی آنکھ کے لیے 20 منٹ تک علاج کیا گیا۔
ان کے بیٹے قاسم خان نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ انہیں بتایا گیا کہ ان کے والد کی دائیں آنکھ کی زیادہ تر بینائی ختم ہو چکی ہے اور صرف 15 فیصد باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ” یہ 922 دن کی تنہائی، طبی غفلت (بلڈ ٹیسٹ سے محرومی) اور جیل میں بروقت مناسب علاج سے انکار کا براہِ راست نتیجہ ہے۔“