پاکستان

سابق فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ گھر میں گرنے کے باعث اسپتال منتقل، آئی ایس پی آر کی تصدیق

  • گرنے کے باعث ان کے جسم کے متعدد حصوں بشمول سر میں میں چوٹیں آئی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے جمعرات کو پاک فوج کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کے زیرِ علاج ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

آئی ایس پی آر نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو اپنی رہائش گاہ پر گرنے کی وجہ سے چوٹ آئی ہے اور وہ سی ایم ایچ میں زیرعلاج ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جنرل باجوہ منگل کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے راولپنڈی میں اپنے مکان کے واش روم میں پھسل کر گرگئے تھے۔

بزنس ریکارڈر نے جمعرات کو خاندانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ گرنے کے نتیجے میں ان کے جسم کے متعدد حصوں، بشمول سر میں چوٹیں آئی ہیں۔ واقعے کے بعد انہیں فوری طبی امداد کیلئے راولپنڈی کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق جنرل ریٹائرڈ باجوہ تاحال انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں داخل ہیں جہاں ڈاکٹرز ان کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں۔

تاہم اسپتال حکام کی جانب سے ان کی صحت کی صورتحال کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ قمر جاوید باجوہ کو نومبر 2016 میں اُس وقت کے وزیرِاعظم نواز شریف نے پاک فوج کا 16 واں سربراہ مقرر کیا تھا۔

ان کی تین سالہ مدتِ مکمل ہونے کے قریب پہنچی تو اس سے قبل ہی اگست 2019 میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت نے ان کی مدتِ ملازمت میں 3 سال کی توسیع کر دی تھی۔

قمر جاوید باجوہ 6 سال تک پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد نومبر 2022 میں ریٹائر ہوگئے تھے۔