بنگلہ دیش میں خواتین کا انتخابات میں نمائندگی کیلئے مارچ
- 2024 کے عوامی بغاوت میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود خواتین کا اس ملک کے سیاسی میدان سے بڑی حد تک باہر رہنے کا امکان ہے
بنگلہ دیش میں خواتین نے پیر کے روز دارالحکومت ڈھاکا کی سڑکوں پر مشعلیں اٹھا کر مارچ کیا، جس میں انہوں نے آئندہ انتخابات میں انصاف اور سیاسی نمائندگی کا مطالبہ کیا۔
2024 کے عوامی بغاوت میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود خواتین کا اس ملک کے سیاسی میدان سے بڑی حد تک باہر رہنے کا امکان ہے ۔ خواتین امیدواروں کی تعداد انتخابات میں چار فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ اس ہفتے کے انتخابات میں حصہ لینے والی 30 جماعتوں نے صرف مرد امیدواروں کی فہرستیں پیش کی ہیں۔
مظاہرین میں شامل سپریم کورٹ کی وکیل پریا احسن چوہدری نے کہا کہ جو بھی حکومت ہو، خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک مختلف شکلوں میں نظر آتا ہے۔ بعض جگہوں پر خواتین کی کوئی نمائندگی نہیں، صرف مرد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی آواز بلند کرنے نکلے ہیں۔
یہ مارچ اتوار کی آدھی رات سے شروع ہو کر پیر کی صبح کے اوائل تک جاری رہا، جب کہ مذہبی اور سیاسی اجتماعات میں خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی اشتعال انگیز تقریر اور انہیں عوامی زندگی سے دور کرنے کی کوششیں زور پکڑ رہی ہیں۔
12 فروری کو ہونے والے انتخابات شیخ حسینہ کی خود مختار حکومت کے خاتمے کے بعد پہلے انتخابات ہوں گے۔ مظاہرین نے کہا کہ عوامی بغاوت کا مقصد انصاف اور مساوات پر مبنی ملک بنانا تھا، مگر خواتین بتدریج عوامی دائرے سے غائب کی جا رہی ہیں۔
بنگلہ دیش کی سیاست میں طویل عرصے تک خواتین کی قیادت رہی ہے، جن میں حسینہ واجد اور ان کی دیرینہ حریف مرحوم تین بار کی وزیر اعظم خالیدہ ضیا شامل ہیں۔ تاہم، سب سے بڑی اسلامی سیاسی جماعت جماعت اسلامی نے کسی خاتون کو امیدوار نہیں بنایا اور کہا کہ معاشرہ خواتین کے لیے سیاست کے لیے تیار نہیں۔