تجارت ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم، پاکستان اور قازقستان کے درمیان 36 ایم او یوز پر دستخط
- قازقستان کو وسطی ایشیا میں اسٹریٹجک اور انتہائی قابلِ قدر شراکت دار تسلیم کرتے ہیں ، وزیرِاعظم شہباز شریف
پاکستان اور قازقستان نے پٹرولیم، کان کنی اور بحری امور سمیت مختلف شعبوں میں 36 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھا کر ایک ارب ڈالر تک لے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔
قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صبح سے اب تک ہونے والی ملاقاتیں نہایت مفید اور نتیجہ خیز رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صدر توکایف اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان مفاہمتی یادداشتوں کو باقاعدہ معاہدوں میں تبدیل کیا جائے اور پھر جتنا جلد ممکن ہو سکے ان پر عمل درآمد کے مرحلے کا آغاز کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، قازقستان کو وسطی ایشیا میں ایک اسٹریٹجک اور انتہائی قابلِ قدر شراکت دار تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے تجارت، معیشت اور ثقافت کے شعبوں میں مضبوط تعلقات کو یقینی بنانے کیلئے دستخط شدہ مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر تیز رفتار عملدرآمد کیلئے قازقستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعظم نے یہ بھی ذکر کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی حجم 25 کروڑ (250 ملین) ڈالر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگلے ایک سال میں اس حجم کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اپنی کاروباری برادریوں کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ آگے بڑھیں اور مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں۔
مزید برآں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے علاقائی روابط کو فروغ دینے کیلئے بیلاروس، روس، قازقستان، ازبکستان، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل ٹرانسپورٹ راہداری پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے قازقستان کو پاکستان کے ٹرانزٹ انفرااسٹرکچر اور بندرگاہوں کی سہولتوں تک مکمل رسائی کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے لیے یکساں سودمند ثابت ہوگا۔
دریں اثنا صدر قاسم جومارت توکایووف نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام صدیوں پرانے تعلقات سے جڑے ہوئے ہیں جن کی بنیادیں عظیم سلک روڈ’ (شاہراہِ ریشم) کی وراثت کے ساتھ گہری ثقافتی اور روحانی قربت پر استوار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں قومیں مشترکہ اقدار، روایات اور مستقبل کے لیے ایک جیسے عزائم رکھتی ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر دستخط کو تاریخی قرار دیتے ہوئے قازق صدر نے کہا کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو ایک نئی سطح پر لے جا کر دو طرفہ اور کثیر جہتی ایجنڈے کے تمام پہلوؤں پر تعاون کے وسیع مواقع پیدا کریں گے۔
قبل ازیں قازق صدر کا وزیراعظم ہاؤس آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے خود ان کا استقبال کیا۔
اس موقع پر قازقستان اور پاکستان کے قومی ترانے بجائے گئے۔ دورے کے دوران صدر قاسم جومارت توکایووف کی صدر آصف علی زرداری سے ملاقات اور پاکستان قازقستان بزنس فورم سے خطاب بھی متوقع ہے۔