وزیرخزانہ کا عالمی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور تعاون بڑھانے پر زور
- وفاقی وزیرِ خزانہ کی سٹی بینک کے وفد سے ملاقات، پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز کی حالیہ کارکردگی اور بیرونی قرضہ جاتی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو کہا ہے کہ حکومت سرمایہ کاروں تک رسائی کو بڑھانے کیلئے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہے جس میں ضرورت پڑنے پر نجی پلیسمنٹس (پرائیوٹ پلیسمنٹ) اور طویل مدتی سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط شامل ہیں۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے وزارتِ خزانہ کی ٹیم کے ہمراہ منگل کو سٹی بینک کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت سٹی بینک کے کنٹری آفیسر حبیب یوسف کر رہے تھے جب کہ علی ثنا رضوی (کارپوریٹ بینکنگ ہیڈ) اور اسامہ پراچہ (وائس پریذیڈنٹ، کارپوریٹ بینکنگ) بھی ان کے ہمراہ تھے۔
اجلاس کے دوران وزارتِ خزانہ کی ٹیم نے موجودہ مارکیٹ حالات اور پاکستان کے بیرونی فنانسنگ آؤٹ لک سے متعلق ایک اعلیٰ سطح جائزہ پیش کیا۔ اجلاس میں پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز کی حالیہ کارکردگی اور بیرونی قرضہ جاتی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا جس میں قیمتوں کے تعین، مارکیٹ ٹائمنگ اور اس امر پر زور دیا گیا کہ آئندہ کسی بھی لین دین کو قرضہ جاتی پائیداری اور لاگت سے متعلق مجموعی اہداف کے مطابق ہونا چاہیے۔
وزارتِ خزانہ کی ٹیم نے سٹی بینک کے وفد کو خودمختار فنانسنگ پروگرامز پر جاری حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا جن میں درمیانی مدت کے نوٹ کے ڈھانچوں پر ابتدائی تیاری شامل ہے۔
وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الوقت توجہ اُن ترجیحی لین دین کی تکمیل پر مرکوز ہے جو اس وقت عمل کے مراحل میں ہیں۔
بتایا گیا کہ اندرونی منظوریوں اور ساختی تیاری کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے اور مارکیٹ سے عملی طور پر رجوع کرنے کا فیصلہ موزوں وقت، مارکیٹ حالات اور قیمتوں کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
گفتگو کے دوران سرمایہ کاروں سے روابط کی حکمتِ عملی بھی زیرِ بحث آئی جس میں وزارتِ خزانہ نے غیر فعال سرمایہ کاری کے بجائے فعال سرمایہ کار شرکت کی اہمیت پر زور دیا۔
وزارت نے حالیہ مثبت پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے بہاؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ساتھ مسلسل اور ہدفی روابط حکومت کی ترجیح ہیں۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ حکومت مناسب مواقع پر نجی پلیسمنٹس اور طویل المدتی سرمایہ کاروں سے روابط سمیت فعال سرمایہ کار انگیجمنٹ کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزارتِ خزانہ کی ٹیم نے اُن شعبوں کی بھی نشاندہی کی جہاں سٹی بینک کی عالمی مہارت سے بہتر استفادہ کیا جا سکتا ہے، خصوصاً اسٹرکچرڈ پروگرامز، دستاویزی فریم ورکس اور مارکیٹ انفراسٹرکچر کے حوالے سے۔
اس بات پر زور دیا گیا کہ پیچیدہ مالیاتی لین دین سے قبل بنیادی دستاویزات اور قانونی فریم ورکس کا قیام ناگزیر ہے۔ اجلاس میں تجارتی اور ہیجنگ سے متعلق ممکنہ اسٹرکچرز پر بھی بات چیت ہوئی تاہم وزارتِ خزانہ نے واضح کیا کہ ایسے آپشنز پر غور بنیادی دستاویزات اور قیمتوں سے متعلق امور کے مناسب حل کے بعد ہی کیا جائے گا۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے مسلسل زمینی سطح پر موجودگی اور اعلیٰ سطحی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کی بدلتی ہوئی معاشی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھنے اور اعتماد سازی میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تاریخی طور پر عالمی بینکوں کے لیے ایک اہم مارکیٹ رہا ہے اور اس ورثے کو مسلسل روابط، ادارہ جاتی وابستگی اور اصلاحات و فنانسنگ ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دونوں فریقین نے رابطے جاری رکھنے اور قریبی تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔
وزارتِ خزانہ نے خودمختار فنانسنگ حل کے حوالے سے سٹی بینک کی دلچسپی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے پاکستان کی فنانسنگ حکمتِ عملی اور وسیع تر معاشی اہداف کی حمایت پر مبنی تعمیری شراکت داری کے لیے اپنی آمادگی کا اعادہ کیا۔