پاکستان

2026 کی پہلی انسداد پولیو مہم، 45 ملین بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے

  • اس مہم کو وائرس کی منتقلی روکنے اور معذوری کا سبب بننے والی اس بیماری کے مکمل خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے
شائع February 3, 2026 اپ ڈیٹ February 3, 2026 01:52pm

پاکستان پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو (پی ای آئی) نے پیر کے روز نئے سال کی پہلی انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا، جس کا مقصد ملک بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے 45 ملین بچوں کو حفاظتی قطرے پلانا ہے۔ اس مہم کو وائرس کی منتقلی روکنے اور معذوری کا سبب بننے والی اس بیماری کے مکمل خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو، عائشہ رضا فاروق نے اسلام آباد کے سی ڈی اے راول ٹاؤن ڈسپنسری میں مہم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر کینیڈا کے ہائی کمشنر، عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر لوو داپینگ، یونیسیف کی نمائندہ پرنل آئرن سائیڈ اور ضلعی حکام بھی موجود تھے۔ یہ ملک گیر مہم 2 سے 8 فروری تک 159 اضلاع میں جاری رہے گی۔

پروگرام حکام کے مطابق 1994 میں آغاز کے بعد سے پاکستان میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کمی آ چکی ہے۔ جہاں ماضی میں سالانہ تقریباً 20,000 کیسز رپورٹ ہوتے تھے، وہیں 2025 میں اب تک 31 کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس کامیابی کا سہرا گھر گھر جا کر ویکسین پلانے والی مہمات، حکومتی قیادت اور 400,000 سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی محنت کو دیا جاتا ہے۔

عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ پاکستان پولیو کے خاتمے کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اس وقت ہر مہم اور ہر بچے تک رسائی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے والدین، اساتذہ، مذہبی و سماجی رہنماؤں اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ویکسینیشن کی حمایت جاری رکھیں تاکہ ہر بچہ نہ صرف پولیو بلکہ دیگر مہلک بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکے۔

تقریب کے دوران وفد نے ویکسینیشن ٹیموں سے ملاقات کی اور بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر قومی مہم کا باضابطہ آغاز کیا۔ وفد نے اسلام آباد ماڈل اسکول فار گرلز کا بھی دورہ کیا جہاں طالبات کو صحت اور ویکسین کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔ حکومت اور شراکت داروں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ متحد ہو کر پولیو فری پاکستان کا ہدف حاصل کریں گے۔