پاکستان اور ازبکستان نے منگل کو تجارتی سہولیات، روابط (کنکٹوٹی)، کان کنی میں تعاون اور غذائی تحفظ کے اقدامات پر قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے جس کا مشترکہ مقصد مضبوط سیاسی خیر سگالی کو ٹھوس تجارتی اور سرمایہ کاری کے نتائج میں تبدیل کرنا ہے۔

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اسلام آباد میں جمہوریہ ازبکستان کے وزیرِ سرمایہ کاری، صنعت و تجارت لزیز قدرتوف کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات کی جس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور تجارت، سرمایہ کاری، روابط اور شعبہ جاتی شراکت داریوں کو تیز کرنے کیلئے عملی اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ دو سال میں مسلسل اعلیٰ سطح رابطوں اور ادارہ جاتی فالو اپ کے ذریعے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اب ترجیح لاجسٹکس، کاروباری روابط اور عملدرآمد کے درمیان موجود رکاوٹوں کو دور کرکے مواقع کو حقیقت میں بدلنا ہے۔

وفاقی وزیرِ تجارت نے تجارتی ترقی کے اقدامات میں ازبکستان کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

دوسری جانب ازبک وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک ازبکستان کی جانب سے ہونے والے آئندہ اعلیٰ سطح دورے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات میں ایک اور اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

انہوں نے تجارت کے بہتر ہوتے ہوئے اشاریوں پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ گزشتہ سال دوطرفہ تجارت میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا جس میں ازبک کی پاکستان سے درآمدات میں تقریباً 12 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پاکستان کے لیے ازبک برآمدات میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے تجارت کو متوازن بنانے اور اسے مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا، اور زیادہ صنعتی تعاون اور نئے شعبہ جاتی اشتراک کے ذریعے دوطرفہ تجارت کے لیے 2 ارب ڈالر کا پرجوش ہدف مقرر کیا۔

ملاقات کا ایک بڑا مرکز تجارتی سہولیات اور مارکیٹ تک رسائی میں ہونے والی پیش رفت تھی جس میں ازبک فریق نے ترجیحی تجارتی فریم ورک پر تعمیری مذاکرات کو سراہا۔ بیان کے مطابق اس میں مصنوعات کی فہرست کو 34 سے بڑھا کر 92 اشیاء تک کرنا شامل ہے جبکہ ازبکستان نے وقت کے ساتھ ساتھ خدمات (سروسز) اور سرمایہ کاری پر مبنی انتظامات تک تعاون کو وسعت دینے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔

مزید برآں، ازبکستان کے وزیر نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت 228 پاکستانی کمپنیاں ازبکستان میں کام کر رہی ہیں اور گزشتہ سال کے دوران 80 نئی کمپنیاں وہاں رجسٹر کی گئی ہیں۔

دونوں فریقین نے ترجیحی شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا جن میں غذائی تحفظ، معدنیات، ٹیکسٹائل، چمڑا اور فارماسیوٹیکل کے ساتھ ساتھ ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ اور خصوصی صنعتی تعاون شامل ہیں۔

ازبک وزیر نے کہا کہ ازبک کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری اور منصوبوں کی تلاش میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں جس میں غذائی تحفظ اور گوشت کی پیداوار، چاول کی کاشت کے مواقع، اور معدنیات کے شعبے شامل ہیں۔

دونوں فریقین نے عوامی اور تجارتی رابطوں میں مثبت رفتار کا بھی جائزہ لیا اور براہِ راست فضائی رابطوں کی بحالی اور وسعت کو خوش آمدید کہا۔