غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان اور دیگر 7 مسلم ریاستوں کا اظہار مذمت
- اسرائیلی کارروائیاں سنگین خطرہ قرار، عالمی امن عمل کا دوسرا مرحلہ سبوتاژ ہوسکتا ہے، وزرائے خارجہ کا انتباہ
پاکستان اور سات دیگر اہم مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں غزہ میں جنگ بندی کی مسلسل اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اس سفارتی اتحاد نے متنبہ کیا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں، جو کہ جاری عالمی امن عمل کے دوسرے مرحلے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
اتوار کو دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ مسلسل تشدد استحکام کی بحالی کے لیے کی جانے والی اجتماعی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ خلاف ورزیاں غزہ کی پٹی میں سیکورٹی اور انسانی بنیادوں پر ایک بہتر مرحلے کی جانب منتقلی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔
اس گروپ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی کامیابی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عملدرآمد کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ایسے وقت میں جب علاقائی اور عالمی فریقین امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں ان اسرائیلی کارروائیوں سے تناؤ بڑھنے اور امن کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
مسلم ریاستوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور جلد بحالی و تعمیرِ نو کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی خاطر انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں۔
وزرائے خارجہ نے اپنے بیان کے اختتام پر ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ دیرپا امن کے لیے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کا قیام ناگزیر ہے، جس کی بنیاد بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور عرب امن اقدام کے فریم ورک پر ہونی چاہیے۔