امریکا اور برطانیہ کی بلوچستان حملوں کی مذمت، پاکستان کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی
- امریکا امن و امان کے قیام کے لیے پاکستان کا مضبوط ساتھی ہے، امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر
امریکا نے 31 جنوری کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور ملک میں امن و استحکام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اتوار کو جاری ایک بیان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے ان حملوں کی مذمت کی جن میں سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بی ایل اے نے قبول کی ہے، جسے امریکہ نے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ نیٹلی بیکر نے متاثرین اور ان کے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام تشدد اور خوف سے پاک زندگی گزارنے کے حقدار ہیں اور امریکہ امن کی کوششوں میں پاکستان کا ثابت قدم شراکت دار رہے گا۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع بشمول کوئٹہ، مستونگ، نوشکی اور گوادر میں ہونے والے ان مربوط حملوں میں کم از کم 18 شہری اور 15 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ جوابی کارروائی میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کے دوران گزشتہ ایک روز میں 3 خودکش حملہ آوروں سمیت 92 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جس سے دو روز میں ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو گئی ہے۔
سعودی عرب، برطانیہ اور ترکیہ نے بھی ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ادھر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کوئٹہ کا دورہ کیا اور عزم ظاہر کیا کہ منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو کسی رعایت کے بغیر انجام تک پہنچایا جائے گا۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کوئٹہ سے ٹرین سروس اور پنجاب کو بلوچستان سے ملانے والی شاہراہیں دوسرے روز بھی معطل رہیں۔