بولنگ ایکشن کا تنازع، عثمان طارق کا کرس گرین کو کرائی بے بی والی میم کے ذریعے کرارا جواب
- عثمان کا یہ ردِعمل کرس گرین کی جانب سے ان کے بولنگ ایکشن پر سوال اٹھائے جانے کے بعد سامنے آیا
پاکستانی اسپنر عثمان طارق نے حالیہ ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران آسٹریلوی آل راؤنڈر کیمرون گرین کی جانب سے ان کے بولنگ ایکشن پر سوال اٹھانے کے جواب میں سوشل میڈیا پر ایک روتے ہوئے بچے کی میم شیئر کر کے پہلے سے جاری تنازع کو مزید ہوا دے دی ہے۔
اس میم کو گرین پر براہ راست طنز تصور کیا جا رہا ہے، جن کا آؤٹ ہونے کے بعد کا ردعمل بظاہر طارق کے ایکشن کا مذاق اڑاتا ہوا معلوم ہوا تھا، جس نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا۔
کئی پاکستانی مداحوں نے آسٹریلوی بیٹر کو غیر اسپورٹس مین رویے پر تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ دیگر نے گرین کی حمایت کرتے ہوئے طارق کے بولنگ ایکشن کی قانونی حیثیت پر تحفظات کا اظہار کیا۔
آئی سی سی قوانین کے تحت بولرز کو معمولی سائیڈ آرم ایکشن کی اجازت ہے لیکن کہنی کا جھکاؤ 15 ڈگری سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
طارق اس سے قبل بھی اسی طرح کے الزامات کے خلاف اپنا دفاع کر چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں آئی ایل ٹی ٹؤئنٹی فائنل کے دوران انگلش کرکٹر ٹام بینٹن نے بھی اسپنر کے ایکشن پر سوال اٹھایا تھا، جس پر طارق نے عوامی سطح پر وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی کہنی کی بناوٹ ایسی ہے کہ اسے سیدھا کرنا مشکل ہوتا ہے، جس سے تماشائیوں کو غلط فہمی ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ پاکستان میں دو بار لیب ٹیسٹ دے چکے ہیں اور ان کا ایکشن کلیئر قرار دیا گیا ہے۔
کرکٹ براڈکاسٹر پال ڈینیٹ نے بھی اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستانی اسپنر کی حمایت کی اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کی مذمت کی۔
انہوں نے لکھا کہ عثمان طارق بہتر سلوک کے مستحق ہیں کیونکہ ان کا ایکشن دو بار ٹیسٹ اور کلیئر ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹ کو اس قسم کے معاملات بہتر طریقے سے حل کرنے چاہئیں اور لوگوں کو سنگدلی چھوڑنی چاہیے۔
اس تنازع نے قذافی سٹیڈیم میں پاکستان کی شاندار کارکردگی کو بھی دھندلا دیا، جہاں آسٹریلوی ٹیم کو 90 رنز کی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کے 198 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی پوری ٹیم 108 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور تمام دس وکٹیں اسپنرز نے حاصل کیں۔ آسٹریلوی کپتان مچ مارش نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے انہیں کھیل کے ہر شعبے میں مات دی اور ان کی ٹیم پارٹنرشپس بنانے میں ناکام رہی۔ اس واقعے نے بولنگ ایکشن، کھلاڑیوں کے طرزِ عمل اور سوشل میڈیا کے کردار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔