نیپاہ وائرس : بھارت میں پھیلاؤ کے بعد سندھ حکومت کا سرحدوں پر سخت نگرانی کا مطالبہ
- وائرس کے علاج کے لیے فی الحال کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا یا لائسنس یافتہ ویکسین دستیاب نہیں
محکمہ صحت سندھ نے سرحدی نگرانی بڑھانے کی کوششوں کے تحت حکام پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سفر کے ذریعے آنے والے کسی بھی مشتبہ نیپاہ وائرس (این آئی وی) کے کیس یا دماغی سوزش کی علامات ظاہر کرنے والے مریضوں کی جلد تشخیص کو یقینی بنائیں۔
محکمہ صحت نے یہ الرٹ بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے تناظر میں جاری کیا ہے۔ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ نیپاہ وائرس ایک انتہائی خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو سانس کی شدید بیماری اور جان لیوا دماغی سوزش کا باعث بنتا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں ابھی تک کسی انسانی کیس کی اطلاع نہیں ملی، تاہم جنوبی ایشیا میں ایک تشویشناک صورتحال ابھر رہی ہے۔
الرٹ کے مطابق جنوری 2026 تک بھارت کے علاقے مغربی بنگال میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، جہاں کولکتہ میں طبی عملے سمیت کم از کم پانچ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ 40 سے 75 فیصد تک بلند شرحِ اموات اور انسان سے انسان میں منتقلی کے خطرے کے پیش نظر خطے کے تمام محکمہ صحت کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
سندھ کے محکمہ صحت نے ایک خط کے ذریعے بارڈر ہیلتھ سروسز (پی ایچ ایس) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ محکمے نے تنہائی (آئیسولیشن)، نمونوں کی ترسیل اور انفیکشن کنٹرول کے لیے ایک مربوط فریم ورک فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے طبی ماہرین کو منتقلی کے ذرائع (جانوروں سے انسانوں اور انسانوں سے انسانوں میں) کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ نے ریپڈ رسپانس ٹیموں (آرآرٹیز) اور پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز (پی ایچ ای او سیز) کو بھی ہمہ وقت تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔
نیپاہ وائرس
نیپاہ وائرس کا تعلق پیرامیکسوویریڈے خاندان کے ہینی پاوائرس جینس سے ہے۔ اسے عالمی ادارہ صحت (ایچ ڈبلیواو) نے وبائی صلاحیت رکھنے والی ترجیحی بیماریوں کی فہرست میں رکھا ہے۔
ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد، قے اور گلے کی سوزش شامل ہیں۔ یہ بیماری شدید دماغی سوزش کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس میں چکر آنا، غنودگی، ہوش و حواس کی تبدیلی اور دورے پڑنا شامل ہیں، جو 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر مریض کو کومہ میں لے جا سکتے ہیں۔ اس وائرس کی علامات ظاہر ہونے کا عرصہ عام طور پر 4 سے 14 دن ہوتا ہے، تاہم 45 دن تک کا طویل عرصہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔
نیپاہ وائرس بنیادی طور پر درج ذیل ذرائع سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے:
متاثرہ چمگادڑوں کے لعاب یا پیشاب سے آلودہ پھلوں یا پھلوں سے بنی مصنوعات (جیسے کھجور کا کچا رس) کا استعمال۔
متاثرہ جانوروں خاص طور پر چمگادڑوں یا خنزیروں کے ساتھ براہِ راست رابطہ۔
متاثرہ انسان کے جسمانی رطوبتوں کے ساتھ قریبی اور غیر محفوظ رابطہ، جو اکثر اسپتالوں میں طبی نگہداشت کے دوران ہوتا ہے۔
فی الحال نیپاہ وائرس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا یا لائسنس یافتہ ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ علاج کی بنیاد بنیادی طور پر مریض کو طبی امداد فراہم کرنے پر ہے جس میں بخار، سانس کی تکلیف اور اعصابی پیچیدگیوں کو کنٹرول کرنا شامل ہے۔ شدید بیمار مریضوں کو اکثر انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) اور مصنوعی تنفس (وینٹی لیٹر) کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ریباویرین نامی دوا کی طبی تاثیر ابھی غیر حتمی ہے، اس لیے اسے باقاعدہ تجویز نہیں کیا جاتا۔
صورتحال کی عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ قومی ادارہ صحت کا ایمرجنسی سینٹر (این آئی ایچ ،پی ایچ ای او سی) اس وقت الرٹ ہے اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا خیال ہے کہ بھارتی کیسز سے وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خطرہ فی الحال کم ہے اور ابھی تک انسان سے انسان میں منتقلی کی شرح میں اضافے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔