مارکٹس

ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے ایس ای سی پی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا

  • ایس ای سی پی میں شمولیت سے قبل، سدھو پاکستان کے کمپٹیشن کمیشن کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں
شائع January 28, 2026 اپ ڈیٹ January 28, 2026 10:55pm

ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے باضابطہ طور پر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی ) کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ یہ بات بدھ کے روز کمیشن نے ایک بیان میں بتائی ہے۔

ایس ای سی پی میں شمولیت سے قبل ڈاکٹر سدھو پاکستان کے مسابقتی کمیشن (سی سی پی ) کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اس عہدے سے استعفیٰ دیا، جسے وفاقی کابینہ نے 27 جنوری کو منظور کر لیا۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ایک منصفانہ، شفاف اور جامع مالیاتی مارکیٹ قائم کرنا ہوگی، جو بچت کو پیداواری سرمایہ کاری میں منتقل کرے، جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کرے، اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دے۔

انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی ضابطوں کو آسان بنانے، طریقہ کار کو ہموار کرنے اور کارپوریٹ و مالیاتی ریگولیٹری فریم ورک میں ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے کے ذریعے کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کرنے پر بھرپور توجہ دے گا۔

سرمایہ بازاروں کو معاشی ترقی کے ایک کلیدی محرک کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے، ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی بنیاد کو وسیع کرنے، نئی فہرست سازی کو فروغ دینے اور متنوع مالیاتی مصنوعات متعارف کروانے کی کوششیں کی جائیں گی۔

ان اقدامات میں مشتقات، رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ ( آر ای آئی ٹیز)، گرین بانڈز اور فرکشنل انویسٹمنٹ آپشنز شامل ہیں، جو مارکیٹ کی گہرائی، لیکویڈیٹی، اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کے ذریعے سپورٹ کیے جائیں گے۔

نان بینکنگ فنانشل کمپنیز (این بی ایف سی ) سیکٹر کی بحالی اور توسیع بھی حکومت کی توجہ کا مرکز رہے گی۔

ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ لیزنگ کمپنیاں، ڈیجیٹل قرض دہندگان، رہن اور ہاؤسنگ فنانس فرمیں، اور ہم مرتبہ سے ہم مرتبہ ( پی ٹو پی ) پلیٹ فارمز ایس ایم ایز ، پہلی بار قرض لینے والوں، اور غیر محفوظ طبقات کو کریڈٹ تک بہتر رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی اس سیکٹر کے لیے مزید معاون ریگولیٹری ماحول بنانے کے لیے بھی کام کرے گا۔

انشورنس سیکٹر پر بھی ترجیہی توجہ دی جائے گی۔ ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ ایس ای سی پی کا مقصد ڈیجیٹل مائیکرو انشورنس، تکافل، اور پیرامیٹرک کلائمیٹ انشورنس کے ذریعے انشورنس کی رسائی بڑھانا، غیر رسمی شعبے میں صارفین کے تحفظ اور کوریج کو یقینی بنانا، اور پالیسی آفرز اور کلیمز کے انتظام میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایس ای سی پی لیپ (ایل ای اے پی) پروجیکٹ کے تحت اپنی ڈیجیٹل تبدیلی کو آگے بڑھائے گا، جس میں لائسنسنگ کے نظام کی مکمل ڈیجیٹائزیشن، ریگولیٹری بوجھ کی کمی، تعمیل کی کم لاگت اور پروسیسنگ کے اوقات میں کمی کے لیے سمارٹ کمپلائنس سسٹم متعارف کروایا جائے گا۔

کمیشن کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ریگولیٹری کارکردگی کو بہتر بنانا اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو مضبوط کرنا ہے۔