کاروبار اور معیشت

پی ٹی سی ایل نے ٹیلی نار پاکستان اور یوفون کے انضمام کیلئے پی ٹی اے کو درخواست دیدی

  • پی ٹی اے ڈیڑھ سے دو ماہ کے اندر اپنے جائزے کا عمل مکمل کرنے کی توقع رکھتا ہے، ذرائع
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے باضابطہ طور پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو درخواست جمع کرا دی ہے جس میں ٹیلی نار پاکستان اور یوفون کے انضمام کی منظوری طلب کی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی اے ڈیڑھ سے دو ماہ کے اندر اپنے جائزے کا عمل مکمل کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ ریگولیٹری اتھارٹی مجوزہ بزنس پلان، نیٹ ورک انفراسٹرکچر، ٹاور اثاثہ جات اور دیگر آپریشنل امور کا جائزہ لے گی، جس کے بعد باضابطہ انضمام، لائسنسز کی منتقلی اور اسپیکٹرم ہولڈنگز کے انضمام سے متعلق منظوری دی جائے گی۔

پی ٹی اے کی منظوری کے بعد یہ معاملہ مزید ریگولیٹری کلیئرنس کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو بھیجا جائے گا۔ ایس ای سی پی کی منظوری کے بعد پی ٹی سی ایل عدالت سے اسکیم آف ارینجمنٹ کی حتمی توثیق حاصل کرے گی، جو انضمام مکمل کرنے کے لیے قانونی طور پر لازمی تقاضا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پورا ریگولیٹری اور قانونی عمل تقریباً پانچ سے چھ ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

یہ انضمامی اقدام پی ٹی سی ایل گروپ کی جانب سے حال ہی میں ٹیلی نار پاکستان اور اورین کے حصول کی تکمیل کے بعد سامنے آیا ہے، جو پاکستان کے ٹیلی کام شعبے میں انضمام کے عمل کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ اس معاہدے کا مقصد پی ٹی سی ایل گروپ کے موبائل شعبے کو مضبوط بنانا ہے، جس کے تحت ٹیلی نار پاکستان کی آپریشنز کو یوفون کے موجودہ انفراسٹرکچر اور صارفین کی بنیاد کے ساتھ ضم کیا جائے گا۔

صنعتی ماہرین کے مطابق مجوزہ انضمام سے آپریشنل استعداد میں بہتری، نیٹ ورک کوریج میں اضافہ اور سروسز کے معیار میں بہتری آ سکتی ہے، جبکہ ملک میں موجود دیگر ٹیلی کام آپریٹرز کے درمیان مسابقت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

پی ٹی اے کے جائزے پر گہری نظر رکھی جائے گی، کیونکہ اتھارٹی انضمام کے مارکیٹ مسابقت، اسپیکٹرم کے ارتکاز اور صارفین کے مفادات پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی حتمی منظوری دے گی۔