پاکستان

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا سندھ بھر کی سرکاری و نجی عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم

  • صوبے بھر میں ابتدائی آڈٹ کے لیے 2,368 عمارتوں کی نشاندہی، بیسمنٹس پارکنگ کے لیے مختص
شائع اپ ڈیٹ

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبے بھر کی تمام بڑی سرکاری، نجی اور تجارتی عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم دے دیا ہے۔وزیراعلیٰ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق ابتدائی طور پر 2,368 عمارتوں کا معائنہ کیا جائے گا اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ تمام اہم عمارتوں کا تفصیلی آڈٹ اب لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور ہر عمارت میں ہنگامی اخراج کے راستوں کا واضح ہونا اور ان میں کسی بھی رکاوٹ کا نہ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عمارتوں کے بیسمنٹس اور میزنائن فلورز، جو پارکنگ کے لیے منظور شدہ ہیں انہیں سختی سے صرف اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے، وہاں کسی قسم کی دکانیں، کیبن یا گودام بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ابتدائی مرحلے میں جن 2,368 عمارتوں کا آڈٹ کیا جائے گا،ان میں سکھر کی 898، کراچی کی 562، حیدرآباد کی 540، شہید بینظیر آباد کی 171، لاڑکانہ کی 143 اور میرپورخاص کی 54 عمارتیں شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ نے تین مرحلہ وار پلان کی منظوری دی ہے جس میں فوری طور پر فائر الارم اور آگ بجھانے والے آلات کی تنصیب، قلیل مدت میں اسموک ڈیٹیکٹرز اور ہائیڈرنٹس کو فعال کرنا، جبکہ طویل مدت میں بجلی کی وائرنگ کی مکمل درستگی اور خودکار فائر سسٹم کی تنصیب شامل ہے۔

اس کے علاوہ تجارتی عمارتوں کے سالانہ حفاظتی معائنے کا عمل، جو برسوں پہلے بند کر دیا گیا تھا اسے دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پی ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ وہ عمارتوں کی انتظامیہ کو ان اقدامات پر عمل درآمد کے لیے مخصوص وقت دیں اور تعمیل نہ کرنے کی صورت میں سخت نوٹس جاری کریں۔