رائے

جب الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں ناکارہ ہو جاتی ہیں تو قصہ وہیں ختم نہیں ہوتا

  • ایسی گاڑیوں کی بیٹریاں کچرا نہیں، توانائی، صنعت اور مستقبل کا نیا ذریعہ بن سکتی ہیں
شائع January 25, 2026 اپ ڈیٹ January 25, 2026 01:11pm

گزشتہ دس برس سے الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) پر ہونے والی عالمی بحث کا محور محض ان کی مقبولیت اور فروخت تک محدود رہا ہے۔ حکومتی اہداف ہوں، مراعات کا اعلان یا پھر چارجنگ اسٹیشنز کا جال اب تک یہی موضوعات خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں۔ ایشیا بحر الکاہل سمیت دنیا بھر میں سڑکوں پر بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کا بڑھتا ہوا رجحان اس بڑی تبدیلی کا واضح ثبوت ہے جو خاموشی سے ہماری زندگیوں کا حصہ بن رہی ہے۔

تاہم اب ایک غیر اہم سا لگنے والا سوال بھی اتنا ہی کلیدی بنتا جا رہا ہے جتنا کہ گاڑیوں کی فروخت کا ہدف اور وہ یہ کہ جب یہ بیٹریاں سڑکوں پر دوڑنے کے قابل نہیں رہیں گی تو ان کا انجام کیا ہوگا؟

جیسے ہی لاکھوں بیٹریاں گردش میں آ رہی ہیں ایک خاموش سوال سر اٹھا رہا ہے کہ جب طاقت ختم ہو جائے گی تو کیا ہوگا؟

اس گھمبیر سوال کا جزوی جواب شمالی تھائی لینڈ کے پہاڑی صوبے مے ہونگ سون میں مل چکا ہے، جو طویل عرصے سے بجلی کی آنکھ مچولی اور گرڈ کی کمزوری کا شکار رہا ہے۔ یہاں ایک منفرد پائلٹ پروجیکٹ کے ذریعے الیکٹرک گاڑیوں کی ناکارہ بیٹریوں کو شمسی توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے دوبارہ کارآمد بنایا جا رہا ہے۔

یہاں نہ نئے ڈیموں کی ضرورت پڑی اور نہ ہی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی بلکہ اس ٹیکنالوجی کو دوسری زندگی دے دی گئی جسے کبھی فضلہ سمجھ کر مسترد کر دیا گیا تھا۔ یہ محض ایک تجرباتی کوشش نہیں بلکہ اس مستقبل کے نظام کی ایک جھلک ہے جس کی تعمیر کے لیے ایشیا اور بحر الکاہل کی کئی حکومتیں کمر بستہ ہیں۔

برسوں تک ناقدین نے بیٹری کے فضلے کے آنے والے بحران سے خبردار کیا، مردہ سیل، زہریلے اخراج اور کچرے کے ڈھیر جو کل کے سبز حل سے بھرے ہوں گے۔

عام طور پر کسی بھی بیٹری کا سفر زمین کی گہرائیوں سے شروع ہوتا ہےچاہے وہ آسٹریلیا سے نکلا لیتھیم ہو، جمہوریہ کانگو کا کوبالٹ یا پھر انڈونیشیا کا نکل۔ یہ کان کنی نہ صرف کاربن کے اخراج کا بڑا سبب اور انتہائی مہنگی ہے بلکہ ارضیاتی حدود اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار بھی رہتی ہے۔ تاہم حقیقت کا ایک حیران کن پہلو یہ ہے کہ ایک ٹن وزنی استعمال شدہ بیٹریوں سے جتنا لیتھیم اور کوبالٹ حاصل کیا جا سکتا ہے وہ زمین سے نکالی گئی ایک ٹن تازہ کانی دھات (اوآرای) سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

جب ہم بیٹریاں پھینک دیتے ہیں تو ہم فضلہ نہیں پھینک رہے ہوتے بلکہ ہم قدر و قیمت کو دفن کر رہے ہوتے ہیں۔ محدود قدرتی وسائل والے ممالک کے لیے ری سائیکلنگ اب محض ماحولیاتی پالیسی نہیں ہے یہ ایک صنعتی حکمت عملی بن چکی ہے۔

لیتھیم آئن بیٹریاں نقل و حمل اور اسٹوریج کے دوران آگ کا حقیقی خطرہ رکھتی ہیں۔ نقصان ضرورت سے زیادہ گرم ہونا یا نمکین پانی سے واسطہ ’تھرمل رن وے‘ کو متحرک کر سکتا ہے، یہ ایک ایسا سلسلہ وار عمل ہے جسے روکنا انتہائی مشکل ہے۔ روایتی آگ کے برعکس لیتھیم بیٹری کی آگ گھنٹوں یا دنوں بعد دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔

سمندری صنعت نے یہ سبق مشکل طریقے سے سیکھا ہے۔ 2022 میں کارگو جہاز ’فیلسیٹی ایس‘ میں بحر اوقیانوس میں آگ لگ گئی جب وہ تقریباً 4,000 گاڑیاں لے جا رہا تھا، جن میں ای وی اور ہائبرڈ گاڑیاں شامل تھیں۔ جہاز کے بالآخر ڈوبنے سے پہلے یہ آگ تقریباً دو ہفتے تک جلتی رہی۔ اس کے بعد سے ایشیا اور یورپ میں متعدد بحری جہازوں نے ای وی سے متعلقہ آگ کی اطلاع دی ہے، جس نے عملے کو جہاز چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

ری سائیکلنگ میں سب سے بڑا دردِ سر محض پرانی بیٹریوں کی واپسی ہے۔ ہزاروں اسکریپ یارڈز اور ڈیلرشپ سے بھاری، آتش گیر اور خطرناک بیٹریاں جمع کرنا ایک لاجسٹک ڈراؤنا خواب ہے جو ری سائیکلنگ کی لاگت کا تقریباً نصف بنتا ہے۔ خراب یا ناکارہ بیٹریوں کی نقل و حمل کے لیے خصوصی کنٹینرز، آگ بجھانے والے نظام، تربیت یافتہ عملہ اور واضح ضوابط درکار ہوتے ہیں۔

بہت سی ترقی پذیرمارکیٹوں میں یہ بنیادی ڈھانچہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ نتیجہ ایک خطرناک ’گرے زون‘ ہے جہاں بیٹریاں غلط طریقے سے ذخیرہ کی جاتی ہیں یا غیر رسمی ذرائع سے منتقل کی جاتی ہیں۔

بہت سی مارکیٹوں میں بیٹری کو ٹرک کے ذریعے ری سائیکلر تک پہنچانے کی لاگت اس کے اندر موجود دھاتوں کی قیمت سے زیادہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ایشیا کا منفرد ’بیٹری سویپنگ‘ (بیٹری کی تبدیلی) کا طریقہ ایک پرکشش حل پیش کرتا ہے۔ مغرب کے برعکس جہاں ای وی زیادہ تر نجی گیراجوں میں پلگ ان کی جاتی ہیں وہیں گنجان آباد ایشیائی شہرایک مشترکہ ماڈل اپنا رہے ہیں۔

ویتنام میں کار ساز کمپنی ون فاسٹ اس وقت ایک وسیع نیٹ ورک تعینات کر رہی ہے، جس کا ہدف ملک بھر میں 150,000 بیٹری سویپنگ کیبنٹ پورٹس ہیں۔ چین میں پریمیم ای وی بنانے والی کمپنی این آئی او 2025 کے آخر تک 90 ملین سے زیادہ بیٹری سویپ مکمل کر چکی ہے۔

حالیہ پیش رفتوں نے ایشیا پیسیفک ریجن میں ان اہم ساختی رکاوٹوں کو اجاگر کیا ہے جن پر پالیسی سازوں کو توجہ دینی چاہیے۔ بنیادی ڈھانچہ مہنگا ہے اور ہر داؤ کامیاب نہیں ہوتا۔ تھائی لینڈ کے سرکاری توانائی کے ادارے پی ٹی ٹی نے اعلان کیا کہ وہ 2026 تک اپنی بیٹری سویپنگ ذیلی کمپنی سوئپ اینڈ گو کو بند کر دے گا۔ تمام تر تشہیر کے باوجود یہ یونٹ ایک ایسی مارکیٹ میں پائیدار کاروباری ماڈل تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کرتا رہا جہاں سستی پیٹرول بائیکس اب بھی غالب ہیں۔

صنعت اس وقت ’انٹر آپریبلٹی‘ (باہمی مطابقت) پر بحث میں الجھی ہوئی ہے کہ آیا حکومت کو تمام مینوفیکچررز کو بیٹری کی ایک ہی شکل استعمال کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔ اگرچہ کاغذ پر معیار سازی اچھی لگتی ہے لیکن بڑے مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ یہ جدت میں رکاوٹ بنتی ہے، جس سے یہ شعبہ انتظار کی کیفیت میں ہے۔

ایشیا کا بڑا حصہ ایل ایف پی(لیتھیم آئرن فاسفیٹ) بیٹریوں پر چلتا ہے کیونکہ وہ سستی اور محفوظ ہیں، تاہم مغربی گاڑیوں کی مہنگی بیٹریوں کے برعکس ایل ایف پی بیٹریوں میں کوئی مہنگا کوبالٹ یا نکل نہیں ہوتا۔ اس سے منافع کے لیے ری سائیکلنگ معاشی طور پر مشکل ہو جاتی ہے۔ حکومتی مراعات کے بغیر ری سائیکلر ان سستی بیٹریوں کو نظر انداز کر سکتے ہیں، جس سے فضلے کا ایک نیا مسئلہ پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

چین نے سخت ’توسیع شدہ پروڈیوسر ذمہ داری (ای پی آر) کے تحت دنیا کے جدید ترین ای وی بیٹری ری سائیکلنگ سسٹمز میں سے ایک بنایا ہے۔ وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا وائٹ لسٹ سسٹم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ صرف منظور شدہ ری سائیکلرز ہی قانونی طور پر ناکارہ بیٹریوں پر کام کر سکیں، جس سے غیر رسمی عناصر باہر ہو جاتے ہیں۔ایک قومی ’ٹریسیبلٹی پلیٹ فارم ہر بیٹری کو ایک منفرد 24 ہندسوں کا کوڈ تفویض کرتا ہے، تاکہ اس کے مکمل لائف سائیکل کو ٹریک اور غیر قانونی ٹھکانے لگانے کو روکا جا سکے۔ نقل و حمل کے اپ ڈیٹ شدہ ضوابط لیتھیم بیٹریوں کی محفوظ نقل و حرکت کو مزید معیاری بناتے ہیں۔ یہ پالیسیاں مل کر ایک مضبوط، ٹیکنالوجی سے چلنے والا گردشی نظام تخلیق کرتی ہیں۔

حکومتیں اب اسے محض اتفاق پر نہیں چھوڑ رہیں۔ یورپی یونین نے ’بیٹری پاسپورٹ‘ متعارف کرایا ہے، جو ہر صنعتی بیٹری کا ایک ڈیجیٹل جڑواں ہے۔ 2027 تک بیٹری پر موجود کیو آر کوڈ کو اسکین کرنے سے اس کی کیمیا، اصلیت، صحت کی حالت اور کاربن فوٹ پرنٹ کا پتہ چل جائے گا۔ یہ شفافیت اعتماد کی کمی کے بڑے مارکیٹ مسئلے کو حل کرتی ہے۔ اگر ری سائیکلر کو بیٹری کھولنے سے پہلے بالکل پتہ ہو کہ اس کے اندر کیا ہے اور دوسرے مرحلے کے خریدار کو معلوم ہو کہ سیل کتنے کارآمد ہیں تو مارکیٹ موثر اور محفوظ ہو جاتی ہے۔

منطق سادہ ہے اگر ہم گرڈ اسٹوریج کے طور پر بیٹری کی کارآمد زندگی کو مزید 10 سے 15 سال تک بڑھا سکتے ہیں تو ہم اس کے کاربن فوٹ پرنٹ کو ڈرامائی طور پر کم کرتے ہیں اور ری سائیکلنگ کی ضرورت کو مؤخر کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ کے بڑے کھلاڑی بھی یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔ جنرل موٹرز نے حال ہی میں ریڈ ووڈ میٹریلز کے ساتھ شراکت داری کی ہے، تاکہ ریٹائرڈ ای وی بیٹریوں کو ڈیٹا سینٹرز کے بیک اپ کے لیے استعمال کیا جا سکے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ گاڑیوں کے پرانے پرزے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انقلاب کو طاقت دے سکتے ہیں۔

ایشیا پیسیفک کا خطہ اپنے گنجان شہروں اور موٹر سائیکلوں کے بڑے بیڑے کے ساتھ اس مہم کی قیادت کے لیے منفرد پوزیشن میں ہے۔

تاہم کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ اس کے لیے پالیسی سازوں کو ای وی کی خریداری پر سادہ سبسڈیز سے آگے بڑھنے اور اس ماحولیاتی نظام کے آخری مرحلے کی فنڈنگ شروع کرنے کی ضرورت ہے، جس میں ایل ایف پی ری سائیکلنگ کے لیے مراعات دینا، جدت کو ختم کیے بغیر سویپنگ کے معیارات کو واضح کرنا اور بیٹری کے فضلے سے نمٹنے کے لیے سرحد پار پروٹوکول بنانا شامل ہے۔ سویپنگ نیٹ ورکس (جو جمع کرنے کا مسئلہ حل کرتے ہیں) کو جدید ری سائیکلنگ (جو سپلائی کا مسئلہ حل کرتی ہے) کے ساتھ ملا کر ہم ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں الیکٹرک انقلاب کا فضلہ اس کا سب سے اہم اثاثہ بن جائے۔

مستقبل کی کان زمین میں کوئی گڑھا نہیں ہوگی بلکہ یہ ہمارے شہروں میں بہنے والی ٹریفک کی صورت میں موجود وسائل ہوں گے۔