ٹرمپ کے ایران سے متعلق ’’ آرمیڈا ‘‘ کے بیان اور قازقستان میں پیداوار میں تعطل پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- مارچ کے لیے برینٹ کروڈ فیوچرز میں 1.68 ڈالر یا 2.6 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت بڑھ کر 65.74 ڈالر فی بیرل ہو گئی
جمعے کے روز تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اس وقت اضافہ ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دھمکیوں کی تجدید کی، جس سے ممکنہ فوجی کارروائی اور خام تیل کی رسد میں خلل کے خدشات پیدا ہو گئے جبکہ قازقستان میں بھی پیداوار متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مارچ کے لیے برینٹ کروڈ فیوچرز 1408 گرین وچ معیاری وقت تک 1.68 ڈالر یا 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 65.74 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 1.63 ڈالر یا 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 60.99 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔
دونوں بینچ مارکس ہفتہ وار بنیاد پر تقریباً 2.5 فیصد اضافے کی جانب گامزن تھے۔
ہفتے کے اوائل میں بھی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ سے متعلق اقدامات کیے، تاہم جمعرات کو یورپ کے خلاف ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے اور فوجی کارروائی کو مسترد کرنے کے بعد قیمتیں تقریباً 2 فیصد گر گئیں۔
ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ڈنمارک، نیٹو اور امریکا کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت امریکا کو گرین لینڈ تک “مکمل رسائی” حاصل ہو جائے گی۔
تاہم اسی روز انہوں نے کہا کہ امریکا کی ایک ” آرمیڈا “ ایران کی جانب روانہ ہو رہی ہے، لیکن انہیں امید ہے کہ اسے استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی، جبکہ انہوں نے مظاہرین کے قتل یا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے خلاف تہران کو ایک بار پھر خبردار کیا۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز سمیت جنگی جہاز آئندہ دنوں میں مشرق وسطیٰ پہنچ جائیں گے۔ امریکا نے گزشتہ سال جون میں ایران پر حملے بھی کیے تھے۔
اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق یومیہ تقریباً 32 لاکھ بیرل پیداوار کے ساتھ ایران، سعودی عرب، عراق اور متحدہ عرب امارات کے بعد اوپیک کا چوتھا بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ ایران چین کو خام تیل برآمد کرنے والا بھی ایک بڑا ملک ہے، جو دنیا کا دوسرا بڑا تیل استعمال کرنے والا ملک ہے۔
ادھر شیوران نے بتایا کہ قازقستان کے تنگیز آئل فیلڈ، جو دنیا کے سب سے بڑے تیل کے میدانوں میں سے ایک ہے، میں پیداوار تاحال بحال نہیں ہو سکی۔ شیوران کی قیادت میں کام کرنے والی آپریٹر کمپنی تنگیز شیور آئل نے پیر کو آگ لگنے کے بعد پیداوار بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ واقعہ قازقستان کی تیل کی صنعت کے مسائل میں مزید اضافہ کا باعث بنا، جو پہلے ہی بحیرہ اسود پر واقع اپنی مرکزی برآمدی گزرگاہ پر رکاوٹوں کا شکار ہے، جہاں یوکرینی ڈرون حملوں سے نقصان پہنچا ہے۔
جے پی مورگن نے جمعے کو کہا ہے کہ تنگیز، جو قازقستان کی مجموعی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ فراہم کرتا ہے، ممکنہ طور پر پورے مہینے بند رہ سکتا ہے، جبکہ جنوری میں قازقستان کی خام تیل پیداوار اوسطاً صرف 10 سے 11 لاکھ بیرل یومیہ رہنے کا امکان ہے، جو معمول کے تقریباً 18 لاکھ بیرل یومیہ کی سطح سے خاصی کم ہے۔