کاروبار اور معیشت

اپٹما کا بجلی کے موجودہ ٹیرف پر شدید تحفظات کا اظہار

  • پاکستان میں صنعتی بجلی کی قیمت 12 سینٹ فی یونٹ سے زائد جبکہ خطے کے مسابقتی ممالک میں یہ شرح 5 سے 7.5 سینٹ کے درمیان ہے، چیئرمین آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کامران ارشد
شائع اپ ڈیٹ

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے بجلی کی قیمتوں کے موجودہ ڈھانچے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مہنگی توانائی اور کراس سبسڈی کے نظام نے ملکی صنعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین اپٹما کامران ارشد نے کہا کہ ٹیکسٹائل برآمدات میں مسلسل پانچ ماہ سے کمی واقع ہو رہی ہے اور صرف دسمبر 2025 میں 8 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی، جو معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نیپرا کی جانب سے ٹیرف میں کمی کا فائدہ صنعتوں کو نہیں دیا گیا، جس کے نتیجے میں گزشتہ دو سال میں 150 بڑی ملیں بند اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں صنعتی بجلی کی قیمت 12 سینٹ فی یونٹ سے زائد ہے، جبکہ خطے کے مسابقتی ممالک میں یہ شرح 5 سے 7.5 سینٹ کے درمیان ہے۔ اس فرق کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ کھو رہی ہیں۔

چیئرمین اپٹما نارتھ اسد شفیع نے صنعتوں پر عائد کراس سبسڈی کو ’خفیہ ٹیکس‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سماجی تحفظ کی سبسیڈیز حکومت اپنے بجٹ سے ادا کرے۔

انہوں نے پیک آورز ٹیرف کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے سنگل فلیٹ ریٹ رائج کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران ایف پی سی سی آئی کے رہنما ایس ایم تنویر نے بھی برآمدات میں 60 ارب ڈالر کے ممکنہ خلا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جی ڈی پی میں برآمدات کا حصہ 16 فیصد سے گر کر 10 فیصد رہ گیا ہے، جو تشویشناک ہے۔

انہوں نے پیداواری لاگت کم کرنے اور برآمدی حکمت عملی کی فوری اصلاح پر زور دیا، تاکہ ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نکالا جا سکے۔