وزیراعلیٰ کا گل پلازہ میں آتشزدگی کا نوٹس، کراچی کی کمرشل عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹ کی ہدایت
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد کراچی کی تمام کمرشل عمارتوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت جاری کردی ۔
کراچی کی مصروف ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی شدید تیسرے درجے کی آگ نے عمارت کو بری طرح تباہ کردیا جس کے نتیجے میں ایک فائر فائٹر سمیت کم از کم چھ افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ریسکیو ٹیمیں انتہائی خطرناک حالات میں آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیرِاعلیٰ نے کمشنر کراچی کو فوری تحقیقات کا آغاز کرنے، آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرنے اور تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ بات وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتائی گئی۔
جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو علاج کی بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ متعلقہ عمارت میں فائر سیفٹی کے انتظامات کا مکمل اور باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور شہر بھر میں فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ادھر کمشنر کراچی اور ڈپٹی کمشنر جنوبی نے گل پلازہ آتشزدگی سے متعلق ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کا واقعہ ہفتے کی شب 9 بج کر 45 منٹ سے 10 بج کر 15 منٹ کے درمیان پیش آیا جبکہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ گل پلازہ کی آگ کے نتیجے میں 1,200 سے زائد دکانیں جل کر تباہ ہو گئیں۔
رپورٹ کے مطابق فائر بریگیڈ کی کارروائی کے بعد آگ پر 60 سے 70 فیصد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ حادثے میں 6 افراد جاں بحق جبکہ 22 زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو سول اسپتال کراچی کے برنز وارڈ منتقل کر دیا گیا ہے۔ امدادی کارروائی میں فائر بریگیڈ کی 22 گاڑیاں، 10 واٹر باؤزرز اور 4 اسنارکل گاڑیاں شامل تھیں، جبکہ ریسکیو 1122 کے آپریشن میں 33 ایمبولینس نے بھی حصہ لیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آگ بجھانے کے دوران شہید ہونے والے فائر فائٹر کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فائر فائٹرز نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر شہریوں کی زندگیاں بچائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام زخمیوں کو علاج کی بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ آگ کے مکمل خاتمے تک ریسکیو اور کولنگ کا عمل جاری رکھا جائے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو اداروں کو ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جب تک آگ پوری طرح بجھ نہ جائے اور صورتحال معمول پر نہ آ جائے، انتظامیہ اور پولیس کام جاری رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا بھی حکم دیا اور کہا کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کےجان و مال کے تحفظ کے لیے تمام اداروں کو ہر وقت مستعد اور تیار رہنا چاہیے۔ سندھ حکومت نے ماضی میں بھی تاجر برادری کو تنہا نہیں چھوڑا اور آئندہ بھی انہیں اکیلا نہیں چھوڑے گی۔
ادھرسندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی رات سے ہی حکومتی مشینری موقع پر پہنچ گئی اور دستیاب تمام وسائل کے ذریعے آگ پر قابو پانے کی بھرپور کوششیں کی گئیں۔
سینئر وزیر کے مطابق ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن میں 40 اسنارکلز سمیت دیگر جدید مشینری نے حصہ لیا، جس کے نتیجے میں آگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے جبکہ کولنگ کا عمل تاحال جاری ہے۔ واقعے کے فوری بعد فائر بریگیڈ، اسنارکلز اور ریسکیو ادارے موقع پر پہنچ گئے اور بروقت کارروائی عمل میں لائی گئی۔
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ ریسکیو اور فائر فائٹنگ کے عمل میں جدید آلات استعمال کیے جا رہے ہیں جن میں ہائی ریچ اسنارکلز، فوم اور کولنگ سسٹمز شامل ہیں، جبکہ تمام متعلقہ ادارے مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل انکوائری جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آگ کیسے لگی اور اس کی وجوہات کیا تھیں۔ واقعے کے حوالے سے ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بھی مرتب کی جائے گی جس کی بنیاد پر آئندہ کے اقدامات طے کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازہ ایک پرانی عمارت ہے اور آگ لگنے کی حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ حکومت کسی بھی قسم کی قیاس آرائی سے گریز کر رہی ہے اور تمام پہلوؤں سے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ نقصان کا مکمل تخمینہ لگانے کے بعد حکومت آئندہ کے لائحہ عمل پر فیصلہ کرے گی۔ تاجر برادری ہو یا دیگر متاثرین، حکومت کی کوشش ہوگی کہ قانون اور ضابطے کے تحت ممکنہ حد تک تعاون فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کی اولین ترجیح ریسکیو آپریشن، کولنگ کے عمل کی تکمیل اور انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔
جماعت اسلامی کی حکومت پر کڑی تنقید
دوسرجانب امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق ودیگر کے ہمراہ آتشزدگی کے مقام کا دورہ کیا۔
میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہاکہ کراچی میٹروپولیٹن شہر ہے، ملکی معیشت کو چلانے والا میگا سٹی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ 16گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ یہ واضح طور پر حکومتی ناکامی، انتظامی نااہلی، بدانتظامی اور بدترین گورننس کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ وہ کون سی غفلت اور کس کی نااہلی ہے جس کی وجہ سے 15سے 16گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ 16گھنٹے گزرنے کے بعد بھی ڈیڈ باڈیز نکالی جا رہی ہیں، 20سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں اور درجنوں افراد تاحال عمارت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے لواحقین باہر کھڑے اپنے پیاروں کی تلاش میں بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں جبکہ تاجر اپنی آنکھوں کے سامنے اپنا سارا کاروبار جلتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایک بڑے شہر میں آگ بجھانے کے لیے ضروری کیمیکلز، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور جدید فائر فائٹنگ سہولیات موجود نہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اداروں کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا ہے۔ بدعنوانی نے ہر ادارے کو کھوکھلا کر دیا ہے اور اس کا خمیازہ آج معصوم شہری بھگت رہے ہیں۔
امیر جماعتِ اسلامی کراچی نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے، پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت نکالا جائے، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور اس سانحے کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ انتہائی دلخراش ہے، ہم جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل دے۔