ریئر ارتھ معدنیات، چین پر انحصار کم کرنے کیلئے امریکہ کا فوری کارروائی پر زور
- چین اہم معدنیات کی سپلائی چین پر غالب ہے اور تانبہ، لیتھیم، کوبالٹ، گریفائٹ اور ریئر ارتھ معدنیات کی 47 سے 87 فیصد پیداوار چین کے زیر عمل ہے
امریکی سینئر عہدیدار کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پیر کو جی-7 ممالک اور دیگر اعلیٰ مالیاتی حکام کے ساتھ ملاقات میں اہم معدنیات پر چین پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے پر زور دیں گے۔
ملاقات کی ابتدا اتوار کی شام عشائیے سے ہوگی اور اس میں جی-7 ترقی یافتہ معیشتوں کے وزرائے خزانہ یا کابینہ کے ارکان، یورپی یونین، آسٹریلیا، بھارت، جنوبی کوریا اور میکسیکو کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ گروپ عالمی سطح پر اہم معدنیات کی 60 فیصد طلب کا حصہ رکھتے ہیں۔
سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ آج کا موضوع فوری کارروائی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا کام ہے، مختلف زاویے اور متعدد ممالک شامل ہیں، ہمیں واقعی تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے جمعہ کو روئٹرز کو بتایا کہ وہ اس مسئلے پر ایک علیحدہ اجلاس کے لیے جی-7 سربراہی اجلاس کے بعد سے زور دے رہے ہیں، جہاں انہوں نے ریئر ارتھ معدنیات پر ایک پیشکش کی تھی۔ سربراہان نے اپنی سپلائی چینز کو محفوظ بنانے اور معیشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے ایک عملی منصوبے پر اتفاق کیا، تاہم اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ شرکا کی جانب سے فوری کارروائی کی کمی پر انہیں مایوسی ہوئی ہے۔
چین اہم معدنیات کی سپلائی چین پر غالب ہے اور تانبہ، لیتھیم، کوبالٹ، گریفائٹ اور ریئر ارتھ معدنیات کی 47 سے 87 فیصد پیداوار چین کے زیر عمل ہے۔ یہ معدنیات دفاعی ٹیکنالوجیز، سیمی کنڈکٹرز، قابل تجدید توانائی کے اجزا، بیٹریاں اور ریفائننگ کے عمل میں استعمال ہوتی ہیں۔
امریکہ کی توقع ہے کہ ملاقات کے بعد کوئی بیان جاری ہوگا، تاہم کوئی مخصوص مشترکہ اقدام متوقع نہیں ہے۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ قیادت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور ان کے ساتھ وہ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں جو فوری کارروائی کی اہمیت کو سمجھیں۔
چین نے حال ہی میں جاپانی کمپنیوں کو ریئر ارتھ اور طاقتور میگنیٹس کی برآمدات محدود کرنا شروع کر دی ہیں جبکہ دوہری استعمال کی اشیا کی برآمدات پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ملاقات اس اقدام سے پہلے طے کی گئی تھی۔