پاکستان صومالیہ کی سرحدی سالمیت کی حمایت کرتا ہے، اسحاق ڈار
- اسرائیلی اقدام خطرناک مثال ، اس سے ہارن آف افریقہ، بحیرہ احمر اور دیگر خطوں میں امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کے علاقے کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک غیر قانونی سیاسی جارحیت اور صومالیہ کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے اور کہا کہ پاکستان صومالیہ کی سرحدی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔
جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے 22ویں غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کا یہ اقدام اور اس کے عہدیدار کا صومالی لینڈ کا اشتعال انگیز دورہ ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے، جس سے ’ہارن آف افریقہ‘، بحیرہ احمر اور اس سے ملحقہ خطوں میں امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
اس غیر معمولی اجلاس میں دو قراردادیں منظور کی گئیں۔ پہلی قرارداد میں صومالی لینڈ کے حوالے سے اسرائیلی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے صومالیہ کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کیا گیا، جبکہ دوسری قرارداد میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو ہدف بنایا گیا۔
اسحاق ڈار نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی کسی بھی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے آزاد اور خود مختار ریاستِ فلسطین کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر او آئی سی کی مسلسل حمایت کو بھی سراہا اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔
او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین براہیم طحہٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ اجلاس صومالیہ کی خودمختاری کو درپیش خطرات پر امتِ مسلمہ کے متحد موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر غزہ میں فوری جنگ بندی، اسرائیلی انخلا اور بے دخل فلسطینیوں کی گھروں کو واپسی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔