دنیا

جنوبی کوریا کے صدر کے چین دورے کے دوران شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربات

  • کم از کم دو میزائل فائر کیے گئے، جو گزشتہ دو ماہ میں شمالی کوریا کی پہلی میزائل سرگرمی ہے۔
شائع January 4, 2026 اپ ڈیٹ January 4, 2026 02:13pm

شمالی کوریا نے اتوار کے روز بیلسٹک میزائل داغے، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب حریف ملک جنوبی کوریا کے صدر چین کے سرکاری دورے کا آغاز کر رہے ہیں، جو پیانگ یانگ کا قریبی اتحادی ہے، اور چند گھنٹے قبل امریکا نے وینزویلا پر حملہ کیا تھا۔

کم از کم دو میزائل فائر کیے گئے، جو گزشتہ دو ماہ میں شمالی کوریا کی پہلی میزائل سرگرمی ہے۔ اس اقدام سے عالمی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر وینزویلا میں کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا گیا۔

جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ جزیرہ نما کوریا میں امن صدر لی جے میونگ کے بیجنگ دورے کے ایجنڈے میں شامل ہوگا، جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات بھی متوقع ہے۔

سیئول کے انسٹی ٹیوٹ فار فار ایسٹرن اسٹڈیز کے پروفیسر لم ایول چُل کے مطابق، پیانگ یانگ سے جاپان اور دونوں کوریا کے درمیان سمندر میں میزائل فائر کرنا چین کے لیے ایک پیغام ہے تاکہ وہ جنوبی کوریا کے ساتھ قریبی تعلقات سے گریز کرے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاملے پر چین کے مؤقف کا توڑ کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق شمالی کوریا یہ بھی ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ وینزویلا سے مختلف ہے اور ایک ایٹمی و عسکری طاقت کے طور پر جارحانہ دفاعی صلاحیت رکھتا ہے۔

جنوبی کوریا اور جاپان نے میزائل تجربات کی شدید مذمت کی۔ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے ہنگامی سلامتی اجلاس منعقد کیا اور شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی پر مبنی اشتعال انگیز اقدامات بند کرے۔

جاپانی وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے کہا کہ یہ میزائل فائرنگ جاپان، خطے اور عالمی برادری کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

امریکی انڈو پیسیفک فورسز نے کہا کہ اس واقعے سے امریکی اہلکاروں یا اتحادیوں کو فوری خطرہ لاحق نہیں، تاہم امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی مشاورت کر رہا ہے۔

جنوبی کوریا کے مطابق میزائل صبح تقریباً 7 بج کر 50 منٹ پر داغے گئے، جنہوں نے تقریباً 900 کلومیٹر تک پرواز کی۔ جاپان نے بھی کم از کم دو میزائلوں کی تصدیق کی ہے۔

یہ میزائل تجربات شمالی کوریا کی حکمران ورکرز پارٹی کی آئندہ کانگریس سے قبل سامنے آئے ہیں، جہاں آئندہ پالیسی اہداف طے کیے جائیں گے۔