کاروبار اور معیشت

برآمدات میں مسلسل پانچویں ماہ کمی ،تجارتی خسارہ 19 ارب ڈالر سے بھی زیادہ

  • ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 9 ، غذائی اشیاء میں 35 فیصد کمی ریکارڈ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی برآمدات میں مسلسل پانچویں ماہ بھی کمی کا رجحان برقرار رہا جس کے نتیجے میں دسمبر کے دوران سالانہ بنیادوں پر برآمدات میں 20.41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس گراوٹ کی وجہ سے مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کے دوران تجارتی خسارہ بڑھ کر 19.20 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 9 فیصد جبکہ غذائی اشیاء کی برآمدات میں 35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

پی بی ایس کے اعدادوشمار بیرونی تجارت کی ایک نہایت مایوس کن تصویر پیش کرتے ہیں۔ دسمبر 2025 میں برآمدات کا حجم 2.32 ارب امریکی ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 2.91 ارب امریکی ڈالر تھا، اس طرح 594 ملین امریکی ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہانہ بنیاد پر بھی برآمدات میں 4.26 فیصد کمی ہوئی کیونکہ گزشتہ سال نومبر میں برآمدات 2.42 ارب امریکی ڈالر تھیں۔

دسمبر کے دوران درآمدات میں معمولی طور پر 2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 5.90 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ماہانہ بنیاد پر درآمدات میں 13.49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ سال نومبر میں درآمدات 5.31 ارب امریکی ڈالر تھیں۔

مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کے دوران برآمدات میں 8.70 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 16.63 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں گھٹ کر 15.18 ارب امریکی ڈالر رہ گئیں۔ جب کہ مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں درآمدات میں 11.28 فیصد اضافہ ہوا اور یہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے 30.90 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 34.4 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔

وزارتِ تجارت کے ذرائع کے مطابق دسمبر میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات 1.36 ارب امریکی ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 1.48 ارب امریکی ڈالر تھیں۔ تاہم کمی کے رجحان کے باوجود مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات مجموعی طور پر مثبت سمت میں رہیں اور معمولی طور پر ایک فیصد اضافے کے ساتھ 9.19 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔

دوسری جانب زرعی اور غذائی اشیاء کی برآمدات میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جو مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں 35 فیصد کم ہو کر 2.62 ارب امریکی ڈالر رہ گئیں جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ 4.06 ارب امریکی ڈالر تھیں۔

مسلسل جاری یہ کمی ملکی تجارتی کارکردگی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں میں سست روی اور کاروبار کرنے کی بلند لاگت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ٹیکسٹائل برآمد کنندگان پہلے ہی کاروباری لاگت میں اضافے کے باعث سکڑاؤ کی شکایات کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق جب تک حکومت بجلی کی قیمت کم کر کے 7 سے 8 سینٹ فی یونٹ نہیں کرتی، ٹیکسٹائل صنعت عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں ہو سکے گی۔ موجودہ بجلی کی قیمت 12 سینٹ فی یونٹ صنعت کے لیے معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں ہے جب کہ ایل این جی بھی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے اپنے کیپٹو پاور پلانٹس چلانے کے لیے نہایت مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔

برآمدات میں یہ مسلسل کمی ملک کی تجارتی کارکردگی پر بڑھتے دباؤ کو واضح کرتی ہے کیونکہ برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں میں مندی اور کاروبار کرنے کی بھاری لاگت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ٹیکسٹائل برآمد کنندگان پہلے ہی کاروباری اخراجات میں اضافے کے باعث پیداوار میں کمی کا شکوہ کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق جب تک حکومت بجلی کی قیمت کم کرکے 7 سے 8 سینٹ تک نہیں لاتی، ٹیکسٹائل صنعت عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔ فی یونٹ بجلی کی موجودہ قیمت 12 سینٹ صنعت کے لیے معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں ہے جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے اپنے کیپٹیو پاور پلانٹس چلانے کے لیے ایل این جی بھی بہت مہنگی ہوتی جارہی ہے۔

اسی دوران نومبر 2025 میں خدمات کی برآمدات 814.25 ملین امریکی ڈالر رہیں جو ماہانہ بنیاد پر 0.41 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 22.26 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔ جب کہ نومبر میں خدمات کی درآمدات کم ہوکر 953.24 ملین امریکی ڈالر رہیں، جوماہانہ بنیاد پر 9 فیصد کمی تاہم سالانہ بنیاد پر 16.72 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔

مالی سال 2025-26 کے جولائی تا نومبر خدمات کی برآمدات 3.83 ارب امریکی ڈالر رہیں جبکہ خدمات کی درآمدات 5.15 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جس کے نتیجے میں 1.31 ارب امریکی ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026