حکومت نے کپاس کی برآمد کی منظوری اسٹیٹ بینک کو دینے کا فیصلہ کیوں کیا؟
- برآمدی رقم کی بروقت وصولی کو یقینی بنانے کے لیے مناسب نگرانی ضروری ہے جو اسٹیٹ بینک کے دائرہ اختیار میں آتی ہے، احسن مہنتی
ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے کپاس کی برآمدات کی منظوری کا اختیار ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) سے منتقل کر کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو دینے کا فیصلہ غیرملکی زرِ مبادلہ کی بروقت وصولی، معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور قیمتوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ملک کو کپاس کی پیداوار میں 70 سے 80 لاکھ بیلز کی کمی کا سامنا ہے۔
بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب کموڈٹیز کے سی ای او احسن مہنتی نے بتایا کہ ٹڈاپ برآمدات سے حاصل ہونے والے غیر ملکی زرِمبادلہ کے حصول کی نگرانی کرنے سے قاصر تھا کیونکہ یہ ادارہ فارن ایکسچینج آپریشنز کو مینج نہیں کرتا۔
احسن مہنتی نے کہا کہ برآمدی رقم کی بروقت وصولی کو یقینی بنانے کے لیے مناسب نگرانی ضروری ہے جو اسٹیٹ بینک کے دائرہ اختیار میں آتی ہے کیونکہ وہی غیر ملکی زرِ مبادلہ کی آمد اور برآمدی ری فنانس کے اعداد و شمار کا ریکارڈ رکھتا ہے۔
دریں اثنا اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ریسرچ ڈائریکٹر محمد اویس اشرف نے کہا کہ قیمتوں کے تعین کا ایک مسئلہ درپیش تھا جسے ٹڈاپ حل نہیں کر پا رہا تھا، اسی وجہ سے وفاقی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔
اویس اشرف کے مطابق پاکستان کو کپاس کی 70 سے 80 لاکھ بیلز کی کمی کا سامنا ہے اور ملک اس فرق کو درآمدات کے ذریعے پورا کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ مسابقتی قیمتیں حاصل کرنے کے لیے سپلائرز تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ایکویٹی ریسرچ وقاص غنی نے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ٹڈاپ کوئی مالیاتی ریگولیٹر نہیں بلکہ ایک تجارتی فروغ دینے والا ادارہ ہے۔
وقاص غنی نے مزید کہا کہ نگرانی کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سپرد کر کے حکومت برآمدی معاہدوں کی درست جانچ پڑتال، ذمہ داریوں کے نفاذ اور معاہدے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سیکیورٹی ڈپازٹ کی ضبطگی کے ذریعے جرمانے کو یقینی بنا رہی ہے۔
پاکستان میں کپاس کی پیداوار 2025-26 کے سیزن میں تیزی سے گرکر 68 لاکھ (6.8 ملین) گانٹھوں تک رہ گئی جو کہ 1.01 کروڑ (10.18 ملین) گانٹھوں کے مقررہ ہدف سے 34 فیصد کم ہے۔
اس سے قبل اپریل میں منعقدہ فیڈرل کمیٹی آف ایگریکلچر (ایف سی اے) کے اجلاس میں 22 لاکھ ہیکٹر رقبے سے 1.01 کروڑ (10.18 ملین) گانٹھوں کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم، اس سال کپاس صرف 20 لاکھ ہیکٹر رقبے پر کاشت کی گئی، جو کہ مقررہ ہدف سے 11.5 فیصد کم ہے۔
کمی کی وجوہات متعدد چیلنجز ہیں، جن میں ماحولیاتی تبدیلی، غیرمتوقع بارشیں اور سیلاب، سفید مکھی اور پنک بول ورم جیسے کیڑوں کے حملے، چلی لیف کرل وائرس (، محدود بیج ٹیکنالوجی اور دیگر فصلوں کے ساتھ مقابلہ شامل ہیں۔