2025: چاندی عالمی توجہ کا مرکز، زرعی اجناس اور تیل کی قیمتیں پیچھے رہ گئیں
- مستقبل پر نظر ڈالی جائے تو 2026 میں قیمتی دھاتوں کے لیے مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے، ماہرین
رواں سال اشیاء (کموڈٹیز) کی عالمی منڈی میں قیمتی دھاتیں سب سے نمایاں کارکردگی دکھانے والے اثاثے رہے جہاں چاندی نے زیادہ تر بڑے اسٹاک انڈیکسز اور کرنسیوں کو پیچھے چھوڑ دیا جب کہ معاشی اور جغرافیائی و سیاسی خطرات کے باعث سونے کی قیمتیں ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئیں۔
صنعتی دھاتوں نے بھی 2025 میں مضبوط اضافہ دکھایا جس میں تانبے کی قیمتیں اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں تاہم کوکو، چینی اور خام تیل سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والی اشیاء میں شامل رہے۔
ماہرین کے مطابق مستقبل پر نظر ڈالی جائے تو 2026 میں قیمتی دھاتوں کے لیے مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے کیونکہ شرحِ سود میں کمی کی توقع ہے، لیکن زرعی اور توانائی کی مصنوعات سے کسی خاص خوشی کی امید نہیں کیونکہ بڑھتی ہوئی رسد (سپلائی) اور سرد مہری کا شکار طلب ان کی قیمتوں میں اضافے کے امکانات کو محدود کررہی ہے۔
عالمی بروکریج ادارے کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ، ٹم واٹرر نے کہا کہ صنعتی اور ریٹیل (عوامی خریداری) دونوں لحاظ سے دھاتوں کی طلب انتہائی مستحکم نظر آرہی ہے۔
مرکزی بینکوں کی مانگ اور 2026 میں متوقع کم امریکی شرحِ سود سے پہلے سرمایہ کاروں کی پوزیشننگ جیسے اہم بنیادی محرکات اپنی جگہ برقرار ہیں۔ چاندی نے 2025 میں 161 فیصد منافع حاصل کیا اور پہلی بار 80 ڈالر فی اونس کی حد عبور کی جبکہ سونے کی قیمت میں 66 فیصد اضافہ ہوا۔
چاندی کو امریکی اہم معدنیات قرار دیے جانے، رسد (سپلائی) میں مسلسل رکاوٹوں اور ذخائر کی کمی سے اضافی مدد ملی ہے جبکہ مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی مستقل خریداری نے اس کی قیمت کو سہارا دیا ہے۔
پلاٹینم اور پیلاڈیم بھی مضبوط سالانہ بڑھوتری کے راستے پر ہیں۔
بی این پی پاریبس کے کموڈٹیز اینالسٹ، جیسن ینگ نے کہا کہ ہم قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مزید اضافے کا رجحان دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس سال کے بہت سے خطرات 2026 میں بھی برقرار رہیں گے۔