دنیا

بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم خالدہ ضیا 80 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

  • خالدہ ضیا جگر کے شدید عارضے، گٹھیا، ذیابیطس، سینے اور دل کے مسائل سمیت کئی بیماریوں میں مبتلا تھیں
شائع December 30, 2025 اپ ڈیٹ December 30, 2025 04:38pm

بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ بیگم خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد منگل کی صبح انتقال کر گئیں،ان کی عمر 80 برس تھی۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ فجر کی نماز کے فوراً بعد صبح چھ بجے اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔

خالدہ ضیا جگر کے شدید عارضے، گٹھیا، ذیابیطس، سینے اور دل کے مسائل سمیت کئی بیماریوں میں مبتلا تھیں۔

وہ 2025 کے آغاز میں علاج کے لیے لندن گئیں جہاں 4 ماہ قیام کے بعد وطن واپس آئیں۔

اگرچہ خالدہ ضیا 2006 سے اقتدار سے باہر تھیں اور کئی سال جیل یا گھر میں نظر بندی (ہاؤس اریسٹ) میں گزارے تھے، لیکن وہ اور ان کی کی جماعت بی این پی اب بھی عوامی مقبولیت اور بڑی حمایت حاصل کرنے میں برقرار رہے۔

بی این پی کو فروری میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں جیت کا سب سے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ پارٹی کے قائم مقام چیئرمین اور ان کے بیٹے طارق رحمان، جن کی عمر 60 سال ہے، تقریباً 17 سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد پچھلے ہفتے وطن واپس آئے اور انہیں وزیراعظم بننے کے لیے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

اگست 2024 سے جب طلبہ کی زیرِ قیادت اٹھنے والی ایک تحریک نے حسینہ واجد کو اقتدار سے بے دخل کردیا، بنگلہ دیش کا انتظام ایک عبوری حکومت چلا رہی ہے جس کی سربراہی نوبل امن انعام یافتہ اور مائیکرو فنانس (خرد مالیات) کے بانی محمد یونس کر رہے ہیں۔

نومبر میں حسینہ واجد کو طلبہ کے احتجاج کے خلاف کئے جانے والی کریک ڈاؤن کے جرم میں ان کی عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی۔

اپنے پہلے نام سے پہچانی جانے والی خالدہ (ضیا) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک شرمیلی خاتون تھیں اور اپنے دو بیٹوں کی پرورش میں مگن تھیں، یہاں تک کہ 1981 میں فوج کی ایک ناکام بغاوت کے دوران ان کے شوہر، فوجی سربراہ اور وقت کے صدر ضیاء الرحمن کو قتل کر دیا گیا۔

تین سال بعد وہ بی این پی کی سربراہ بن گئیں جس کی بنیاد ان کے شوہر نے رکھی تھی اور انہوں نے اپنے شوہر کے اس مقصد کو پورا کرنے کا عہد کیا کہ بنگلہ دیش کو غربت اور معاشی پسماندگی سے نجات دلائی جائے گی۔

انہوں نے بنگلہ دیش کے بانی کی بیٹی اور عوامی لیگ کی سربراہ، حسینہ (واجد) کے ساتھ ہاتھ ملا لیا تاکہ جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک ایسی عوامی تحریک کی قیادت کی جا سکے جس نے 1990 میں فوجی حکمران حسین محمد ارشاد کا تختہ الٹ دیا۔

وزیراعظم کا اظہار افسوس

وزیراعظم شہبازشریف نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بیگم خالدہ ضیاء بنگلہ دیش کی خدمت اور ترقی کی علامت تھیں، اور پاکستان کی مخلص دوست تھیں۔

انہوں نے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں حکومت اور پاکستان کے عوام بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ہماری ہمدردیاں اور دعائیں ان کے اہلِ خانہ، دوستوں کے ساتھ ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مرحومہ کے اہلِ خانہ اور بنگلہ دیشی عوام سے اظہار تعزیت بھی کیا۔