چینی کی برآمدات سے متعلق ناقص فیصلے، کمیٹی نے ایف بی آر اور دیگر اداروں کی ناقص ڈیٹا فراہمی کی نشاندہی کردی
- ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے کام نہ کرنے کی وجہ سے چینی کی نقل و حمل کی نگرانی کا عمل رک گیا
ایک پارلیمانی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کی جانب سے فراہم کردہ چینی کی پیداوار اور اسٹاک کے غلط اعداد و شمار اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور صوبائی کین کمشنرز کی جانب سے بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے چینی کی برآمد کے غلط فیصلے کیے گئے۔
ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو شوگر کی قیمتوں میں اضافے کے اسباب کی تحقیقات کرنے اور ایسے اداروں، افراد یا حکام کی نشاندہی کرنے کا کام سونپا گیا جو ماضی میں شوگر کی برآمد یا درآمد کی اجازت دینے کے فیصلوں کے ذمہ دار ہیں۔
کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ ایس ٹریک پورٹل (ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم) کے کام نہ کرنے کی وجہ سے چینی کی نقل و حمل کی نگرانی کا عمل رک گیا، جس سے قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور ریٹیل کی سطح پر منافع خوری کو شہ ملی۔ پینل نے مزید نوٹ کیا کہ مخصوص بنیادوں پر این او سیزکے اجراء نے مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے عمل کو مزید آسان بنا دیا تھا۔ ضرورت سے زیادہ حکومتی ریگولیشن نے اختیارات کے غلط استعمال کے مواقع پیدا کیے جبکہ قیمتوں کے تعین کے حوالے سے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے ساتھ حکومتی روابط نے درحقیقت ’کارٹل‘ (اجارہ داری) جیسے رویے کو قانونی حیثیت دے دی۔ اس کے علاوہ، چینی درآمد کرنے کے فیصلے پر بھی سوالات اٹھائے گئے کیونکہ یہ فیصلہ ملک میں مقامی چینی کے وافر ذخائر کی موجودگی کے باوجود کیا گیا تھا۔
سی سی پی کے مطابق اپنے قیام سے لے کر اب تک اس نے کارٹل (اجارہ داری) کی نشاندہی، قانونی کارروائی اور پالیسی کی سطح پر اقدامات کے ذریعے شوگر سیکٹر میں متعدد بار مداخلت کی ہے۔ سی سی پی نے کئی پالیسی نوٹس جاری کیے اور 2018 میں ایک جامع مطالعہ کیا جس میں تفصیلی سفارشات پیش کی گئیں۔ سال 2025 میں چینی کے بحران کے سر اٹھانے کے بعد سی سی پی نے اس کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لینے کے لیے ایک گہرا تحقیقی عمل شروع کیا ہے۔
سی سی پی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس نے شوگر سیکٹر میں متعدد تحقیقات کی ہیں اور اب تک مجموعی طور پر 44 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے ہیں۔ سی سی پی نے مزید بتایا کہ 2025 میں چینی کی قیمتیں 120 روپے سے بڑھ کر 200 روپے فی کلو سے تجاوز کرنے کے بعد شروع کی گئی تازہ ترین تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بحران کا یہ تسلسل چینی کی برآمد کے فیصلوں سے جڑا ہوا ہے۔
برآمدات کی یہ منظوریاں شوگر ایڈوائزری بورڈ کی سفارش پر دی گئیں جس نے چینی کی پیداوار اور اسٹاک کے لیے مکمل طور پر شوگر ملز ایسوسی ایشن کے فراہم کردہ اعداد و شمار پر بھروسہ کیا۔ سال 2025 میں چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جو مارچ میں 168 روپے،جولائی میں 184 روپے اور اس وقت 200 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر چکی ہیں۔ سی سی پی نے نوٹ کیا کہ حکومت نے نومبر 2023 سے جنوری 2025 کے درمیان چھ مراحل میں چینی کی برآمد کی اجازت دی، جس میں جنوری 2025 میں 5 لاکھ میٹرک ٹن کی حتمی منظوری نے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قلت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمیشن نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی کی پیداوار کو تقریباً 13.3 لاکھ (1.33 ملین) میٹرک ٹن زیادہ ظاہر کیا اور گزشتہ سال کے بچے ہوئے اسٹاک کے غلط اعدادوشمار پیش کیے جس کے نتیجے میں غلط ڈیٹا کی بنیاد پر برآمدات کی متعدد منظوریاں دی گئیں۔ سی سی پی نے مزید کہا کہ اس نے بارہا ایف بی آر سے درست معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اسے فراہم نہیں کی گئیں اور 2025 کے دوران مارکیٹ میں ہونے والی ممکنہ ہیرا پھیری اور اس پر لاگو ہونے والے جرمانوں کے حوالے سے ایک جامع تحقیقات فی الحال جاری ہیں۔
سی سی پی نے زور دیا کہ اس کے نفاذی اقدامات قابل اعتماد ڈیٹا پر منحصر ہیں، تاہم صوبائی کین کمشنرز کی جانب سے فراہم کردہ معلومات جزوی اور ناکافی رہیں۔ اس نے ایف بی آر سے حقیقی وقت کا ڈیٹا حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اسٹاک کی درست صورتحال معلوم کی جا سکے اور وہ ملز شناخت کی جاسکیں جو سپلائیز روک رہی ہیں۔
کمیٹی کے سربراہ نے مشاہدہ کیا کہ 2025 میں حقیقی وقت کے ڈیٹا کی عدم موجودگی اور کین کمشنرز کی غیر مستقل رپورٹنگ کی وجہ سے سی سی پی کو کارٹل سازی کے مشتبہ ملز کے خلاف بروقت کارروائی کرنے میں دشواری ہوئی۔
کمیٹی نے چند سفارشات پیش کیں، جن میں شامل ہیں:(i) ایف بی آر، کین کمشنرز، سی سی پی اور متعلقہ وزارتوں کے درمیان ایک ایسا خودکار نظام بنایا جائے؛(ii) شوگر سیکٹر کو بتدریج سرکاری کنٹرول سے آزاد کیا جائے تاکہ انتظامی مداخلت اور مارکیٹ کی خرابیوں کو ختم کیا جا سکے؛(iii) برآمدات کے تمام فیصلوں کی منظوری سے قبل آزادانہ تشخیص کے ذریعے تصدیق کرنا۔(iv)ملک میں ہر وقت کم از کم 5 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن چینی کا ذخیرہ موجود ہونا لازمی قرار دیا جائے؛(v) غلط یا گمراہ کن اعداد و شمار فراہم کرنے والے افراد اور محکموں کا محاسبہ کیا جائے؛(vi) ریٹیل سطح پر ہونے والی منافع خوری کی سی سی پی کے ذریعے تفصیلی تحقیقات کرنا۔(vii) صوبائی حکومتوں کے ذریعے کین کمشنرز کے ذریعے کچلنے کے عمل کا بروقت آغاز یقینی بنانا؛(viii) ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے چینی کی خریداری کے لیے واضح اور شفاف پیرامیٹرز (طریقہ کار) وضع کرنا۔؛(ix) سی سی پی کے نفاذِ قانون کے اختیارات اور جرمانوں کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کے لیے قانونی اصلاحات کرنا۔؛(x) چینی کی درآمد کے فیصلوں کا ایک تفصیلی آڈٹ کرنا تاکہ ملک میں موجود مقامی اسٹاک کی سطح کی روشنی میں ان فیصلوں کے جواز کا تعین کیا جا سکے۔(xi) سمندری راستوں کے ذریعےلاجسٹک کے نظام کی معیار بندی اور اسے ترجیح دینا تاکہ اسمگلنگ کو کم سے کم کیا جا سکے اور سپلائی چین کو مستحکم بنایا جا سکے۔؛(xii) ماضی میں چینی کی برآمد یا درآمد کے غلط فیصلوں کے ذمہ دار اداروں، تنظیموں، افراد یا سرکاری حکام کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کرنا۔ اور(xiii) چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنا ہی مستقبل کے بحرانوں سے بچنے کا واحد قابل عمل اور طویل مدتی حل ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025