ڈسکوز کی نجکاری میں بڑی پالیسی تبدیلی: صرف گیپکو کو نجکاری کیلئے پیش کئے جانے کا امکان
- آئیسکو اور فیسکو کو طویل مدتی کنسیشن معاہدوں کے تحت پیش کیا جائے گا
بزنس ریکارڈر کو باوثوق ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے حوالے سے حکومت کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے، اب حکومت کی جانب سے صرف ایک کمپنی گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کو مکمل نجکاری کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کو طویل مدتی کنسیشن معاہدوں کے تحت پیش کیا جائے گا۔
نجکاری کمیشن (پی سی) جو اس معاملے پر اب تک سست روی کا شکار رہا ہے اب ڈسکوز کے لیے زیرِ بحث ٹرانزیکشن ماڈل کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ توقع ہے کہ جنوری 2026 کے پہلے مہینے میں لیٹر آف انٹینٹ (ایل او آئیز) جاری کردیے جائیں گے۔
اس سے قبل حکومت نے پہلے مرحلے میں تین ڈسکوز گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو)، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کا فیصلہ کیا تھا جبکہ سندھ کی دو کمپنیاں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کو طویل المدتی کنسیشن (رعایتی) ماڈل کے تحت نجی شعبے کے حوالے کرنے کی تجویز تھی۔
15 دسمبر 2025 کو وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کے شعبے سے متعلق امور، بشمول ڈسکوز کی نجکاری، پر ایک اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کے دوران وزارتِ نجکاری نے نجکاری کے عمل میں پیش رفت میں تاخیر کی وجوہات سے آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق وزارت نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ ڈسکوز شرائطِ پیشگی کی تکمیل، خاص طور پر جائیدادوں کی منتقلی کے حوالے سے نجکاری کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کررہی ہیں جس پر وزیراعظم نے نجکاری کمیشن، ڈیفنس ڈویژن، چیف سیکرٹری پنجاب اور وزارتِ داخلہ/سی ڈی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈسکوز کی جائیدادوں کی منتقلی میں مکمل تعاون فراہم کریں۔
اس ضمن میں وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام متعلقہ فریقین کا اجلاس طلب کریں تاکہ تینوں ڈسکوز کی جائیدادوں کی منتقلی سے متعلق مسائل حل کیے جا سکیں اور نجکاری کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے نجکاری کمیشن کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ ڈسکوز کے دوسرے مرحلے کے لیے اظہارِ دلچسپی (ای او آئیز) کے اجرا کو یقینی بنائے تاکہ یہ عمل پہلے سے طے شدہ ٹائم لائن یعنی 31 دسمبر 2025 کے مطابق مکمل ہوسکے۔
ترکیہ کے وزیرِ توانائی کے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے ڈسکوز کی نجکاری کے لیے تجربہ کار اور معتبر بین الاقوامی نجی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں پاکستان کی گہری دلچسپی پر زور دیا۔ انہوں نے بجلی کی تقسیم کے شعبے میں ترکیہ کے وسیع تجربے کے باعث اس کی شمولیت کو خاص طور پر اہم قرار دیا۔
سردار اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان جلد ہی اپنی پہلی تین ڈسکوز نجکاری کے لیے پیش کرے گا اور سرمایہ کاروں کے لیے اظہارِ دلچسپی (ای او آئی) جاری کرنے کی تیاری مکمل ہے۔ انہوں نے ترک ماڈل کی خوبیوں کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے حکام اور اداروں کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیا، خصوصاً کنسیشن ماڈل کے کامیاب نفاذ کے حوالے سے ترکیہ کے تجربے کو نمایاں کیا۔
حکومتی منصوبے کے تحت طویل المدتی کنسیشنز کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزرز کی خدمات حاصل کی جائیں گی، جس میں ترک ماڈل کو اختیار کیے جانے کا امکان ہے، کیونکہ اس ماڈل کے ذریعے نجی شعبے کی شمولیت، سروس کے معیار میں بہتری اور نقصانات میں کمی جیسے مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔
دوسرے مرحلے میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (ہیزیکو) کو نجکاری کے لیے پیش کیا جائے گا۔اسی دوران حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو)، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) اور پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کو کنسیشن ماڈل کے تحت پیش کیا جائے گا، جبکہ ٹرائبل ایریاز الیکٹرک سپلائی کمپنی (ٹیسکو) اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کو ابتدائی طور پر بہتری کے لیے حکومتی تحویل میں رکھا جائے گا اور بعد ازاں انہیں مینجمنٹ کنٹریکٹس کے ذریعے پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق شرائطِ پیشگی (کنڈیشنز پریسیڈنٹ) میں دیگر امور کے ساتھ یہ نکات شامل ہیں کہ لائسنس کی اہلیت سے متعلق قواعد و ضوابط کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، تقسیم اور فراہمی کے لیے کارکردگی کے معیارات کو الگ کیا جائے، بجلی کی خریداری سے متعلق قواعد کا اجراء کیا جائے، یکساں ٹیرف سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ٹیرف قواعد میں ترمیم کی جائے، سبسڈیز کے حوالے سے وضاحت اور وصولی کے مؤثر طریقۂ کار وضع کیے جائیں، ڈسکوز کی بیلنس شیٹس کی صفائی اور شیئرز کا اجرا عمل میں لایا جائے، حکومتی واجبات کی بروقت ادائیگی کے لیے نظام تیار کیا جائے، قومی بجلی پالیسی (این ای پی) کے تحت ڈسکوز کے ٹیرف اہداف میں نظرِ ثانی کی جائے، اسٹریٹجک روڈمیپس تشکیل دی جائیں، بجلی چوری کی روک تھام اور ریکوری سسٹمز کو ادارہ جاتی شکل دی جائے، آف بیلنس شیٹ واجبات کی نشاندہی کی جائے، سپلائر کے انتخاب کے لیے صارفین کی اہلیت کا تعین کیا جائے، ڈسکوز کے لائسنس نظام میں نظرِ ثانی کی جائے اور آخر میں کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے مکمل نفاذ کے لیے ٹائم لائنز کی توثیق کی جائے۔
نجکاری کمیشن کے مشیر ایلوریز اینڈ مارشل مڈل ایسٹ نے سیکٹر سے متعلق اپنی ’ڈیو ڈیلیجنس رپورٹ جمع کروا دی ہے جس میں کئی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اگرچہ ان میں سے کچھ مسائل حل کر لیے گئے ہیں، تاہم دیگر تاحال حل طلب ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025