شپ ری سائیکلنگ مارکیٹ کو 2 ارب ڈالر تک وسعت دینے کا منصوبہ تیار
- پاکستان اس وقت جہازوں کی ری سائیکلنگ کا دنیا کا تیسرا بڑا مرکز ہے ، حکام
پاکستان نےآئندہ ایک دہائی کے دوران اپنی جہاز سازی کی ری سائیکلنگ کی مارکیٹ کو 2 ارب ڈالر تک وسعت دینے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان ہانگ کانگ انٹرنیشنل کنونشن (ایچ کے سی) کو اپنانے، عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے اقدامات میں سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔ یہ اقدامات گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈ کی بحالی کے جامع منصوبے کا بنیادی حصہ ہیں۔
وزارتِ بحری امور نے گڈانی کے لیے ایک وسیع البنیاد ترقیاتی پروگرام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت حکومت 30 بستروں کا اسپتال، طبی عملے کے لیے رہائشی کوارٹرز، نئی لیبر کالونیاں، ایک اسکول، پبلک پارک، پانی کی فراہمی کی بہتر سہولیات اور 32 کلومیٹر طویل رسائی کی سڑکیں تعمیر کرے گی۔ حکام نے اس اقدام کو شپ بریکنگ مرکزمیں کارکنوں کی فلاح و بہبود اور بنیادی ڈھانچے (انفرااسٹرکچر) کی بہتری کے لیے ایک طویل عرصے سے زیرِ التوا کوشش قرار دیا ہے۔
وزارت کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر آئندہ 10 سالوں میں 15 ہزار سے زائد بحری جہازوں کی آپریشنل مدت ختم ہونے کی توقع ہے جو پاکستان کے سرکاری اور نجی شعبوں کے لیے بہت بڑا موقع پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت جہازوں کی ری سائیکلنگ کا دنیا کا تیسرا بڑا مرکز ہے اور اس کا مقصد گڈانی کو گرین شپ ری سائیکلنگ کے ایک عالمی ماڈل کے طور پر دوبارہ مستحکم کرنا ہے۔
لندن میں مقیم کلارکسنس ریسرچ کے مطابق عالمی شپ ری سائیکلنگ کی مانگ موجودہ سالانہ 6 سے 7 ملین لائٹ ڈسپلیسمنٹ ٹن (ایل ڈی ٹی) سے بڑھ کر 2030 تک 15 ملین ایل ڈی ٹی سے زائد ہونے کی توقع ہے۔ عالمی شپ بریکنگ اور ری سائیکلنگ مارکیٹ کا حجم اگلے عشرے میں سالانہ 10 سے 12 ارب ڈالر سے زائد ہونے کا اندازہ ہے۔ حکام نے کہا کہ پاکستان آئی ایل او کے لیبر اسٹینڈرڈز کے مؤثر نفاذ اور ایچ کے سی کی مکمل تعمیل کے ذریعے اس مارکیٹ میں نمایاں حصہ حاصل کر سکتا ہے جو شپ ری سائیکلنگ کے ویلیو چین میں ماحولیاتی اور حفاظتی ذمہ داریوں کو منظم کرتا ہے۔
اقتصادی اہمیت کے باوجود، شپ بریکنگ سیکٹر کو اب تک رسمی صنعتی حیثیت حاصل نہیں ہوئی اور یہ زیادہ تر غیر منظم ہے۔ یہ شعبہ ملازمتیں پیدا کرتا ہے اور پاکستان کی لوہا اور اسٹیل کی صنعت کو بڑی مقدار میں دوبارہ رول ہونے والا اسکریپ فراہم کرتا ہے۔ تاہم، حکومت کی نگرانی محدود رہی ہے، کام کے حالات غیر محفوظ ہیں اور بنیادی ڈھانچہ شدید طور پر خراب ہے۔ اگرچہ یہ صنعت سالانہ 5 ارب روپے سے زیادہ کماتی ہے لیکن حفاظتی معیارات کو بہتر بنانے کے لیے اس میں بہت کم سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
ماحولیاتی اور صحت کے مسائل بھی اہم ہیں۔ پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنوگرافی کی کئی سالہ ماحولیاتی تحقیقات میں گڈانی کے ساحلی پانیوں اور تلچھٹ میں لیڈ، کرومیم، کیڈمیم اور مرکری کی بلند سطحیں دریافت کی گئی ہیں۔
آئی ایل او کی سفارشات کے مطابق اور درکار اصلاحات کے دائرہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے شپ بریکنگ سیکٹر کے لیے 12 ارب روپے کا جدید کاری پروگرام منظور کرلیا ہے۔ وزارت کے حکام کے مطابق، اس سرمایہ کاری سے فضلہ انتظام کے پلانٹس، آگ کنٹرول کے نظام، ماحولیاتی نگرانی کی لیبارٹری، تربیتی مراکز، ساحلی بنیادی ڈھانچہ اور تعمیل سرٹیفیکیشن کے نظام کی مالی معاونت کی جائے گی۔
حکام نے زور دیا کہ ہانگ کانگ کنونشن کی تعمیل محض ایک ضابطے کی پابندی نہیں بلکہ اقتصادی بحالی کا راستہ ہے۔ 10 کلومیٹر کے رقبے میں 135 مخصوص پلاٹس کے ساتھ، گڈانی پہلے ہی تبدیلی کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ گیارہ یارڈز ماحولیاتی لحاظ سے مکمل ہونے کے قریب ہیں جبکہ مزید 20 یارڈز کی توقع ہے کہ جون 2026 تک گرین آپریشن شروع کریں گے۔
وزارت نے بلوچستان حکومت کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ گڈانی کو خطے میں ماحول دوست شپ ڈسمینٹلنگ کے لیے ایک ماڈل کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
آئی ایل او نے گڈانی میں نظامی کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے، خاص طور پر ہنگامی ردعمل کے نظام، ذاتی حفاظتی آلات اور کیمیائی نمائش کے کنٹرولز میں۔ 2021 سے، آئی ایل او کی معاونت سے کی جانے والی صلاحیت سازی کی کوششوں میں تربیتی ماڈیولز، حفاظتی معیارات کے آپریٹنگ طریقہ کار، اور منتخب پلاٹس پر پائلٹ مانیٹرنگ یونٹس متعارف کرائے گئے ہیں۔ آئی ایل او کے 2023 کے پیش رفت جائزے میں نوٹ کیا گیا کہ پاکستان عالمی لیبر اور حفاظتی معیارات کے مطابق خطرات کے کنٹرول کو ادارہ جاتی شکل دے کر بین الاقوامی مارکیٹ تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
وفاقی وزیر بحری امور جنید چوہدری نے کہا کہ وسیع قومی بحری حکمت عملی کے تحتجو ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی لچک پر مرکوز ہے، حکومت کراچی میں گرین پورٹس، شپنگ اور مربوط بحری صنعتوں کے لیے ایک قومی سینٹر آف ایکسیلنس قائم کر رہی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025