پاکستانی سیلاب متاثرین کے لیے چین کی تیسری امدادی کھیپ موصول
- دوست ملک نے اب تک 33,000 کمبل، 6,000 خیمے، 100 کشتیاں اور 1,000 لائف جیکٹس فراہم کیے ہیں
قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ کمیونٹی کے لیے چین کی جانب سے تیسری امدادی قسط وصول کر لی ہے۔ یہ امدادی شپمنٹ چین کی مسلسل مدد کی عکاس ہے اور اس میں 100 کشتیاں، 5,000 خیمے اور 8,000 کمبل شامل ہیں۔
این ڈی ایم اے نے چینی حکومت کی جانب سے بروقت امداد فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اتھارٹی متاثرہ آبادی کی بحالی کے لیے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے نے مزید کہا کہ وہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف اشیاء کی تقسیم زمینی حقائق اور حالات کے مطابق یقینی بنائے گا۔
تیسری قسط کی وصولی کے بعد چین اب تک پاکستان کو 33,000 کمبل، 6,000 خیمے، 100 کشتیاں، 1,000 لائف جیکٹس اور 4,000 سلیپنگ بیگ فراہم کر چکا ہے۔ پاکستان میں اس سال مون سون کے دوران آنے والے طوفانی سیلاب نے متعدد مقامات کو ڈبو دیا اور سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے، جبکہ مالی اور جانی نقصان بھی ہوا۔
این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے 27 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی موجودہ صورتحال اور بحالی کے منصوبے سے آگاہ کیا، جس میں وزیراعظم نے امریکہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ تقریباً 350,000 متاثرہ افراد ریلیف کیمپوں اور خیمہ بستوں سے اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔ سندھ میں کچھ افراد اب بھی کیمپوں میں مقیم ہیں، مگر سیلابی پانی کے تیزی سے کم ہونے کے باعث وہ جلد ہی اپنے گھروں کو واپس جائیں گے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ خوراک اور دیگر امدادی سامان کی تقسیم جاری ہے اور پنجاب حکومت کو متاثرہ آبادی کی بحالی کے لیے نمایاں اقدامات کرنے پر خصوصی طور پر سراہا گیا۔
اس کے علاوہ فصلوں کے نقصان اور کسانوں کی بحالی کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نقصان کے مکمل تخمینہ پر مبنی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر تیار کر کے پیش کی جائے۔