بھارتی چاول کی عالمی منڈیوں میں واپسی سے پاکستانی چاول کی برآمدات میں نمایاں کمی، ماہرین
- مالی سال 2025-26 کے جولائی تا نومبر کے عرصے میں پاکستان کی چاول برآمدات حجم کے لحاظ سے 40.02 فیصد کم ہو گئیں ، ماہرین
بین الاقوامی مسابقت میں شدت اور اندرونی پالیسی رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی چاول برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ، جبکہ صنعتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافے اور قیمتوں میں مسابقتی برتری کھونے کے باعث پاکستان اہم برآمدی منڈیوں سے باہر ہو رہا ہے۔
مالی سال 2025-26 کے جولائی تا نومبر کے عرصے میں پاکستان کی چاول برآمدات حجم کے لحاظ سے 40.02 فیصد کم ہو گئیں۔ محکمہ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے مطابق آئی آر آر آئی-6 اور آئی آر آر آئی-9 (نان باسمتی) چاول کی برآمدات میں 39.70 فیصد کمی ہوئی، جبکہ باسمتی چاول کی برآمدات 41.79 فیصد گھٹ گئیں۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) کے سینئر نائب صدر محمد جاوید جلانی نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ عالمی منڈی میں بھارتی چاول کم قیمت پر دستیاب ہے جبکہ پاکستانی چاول نسبتاً مہنگا ہونے کے باعث اس کی طلب میں کمی آئی ہے۔
ان کے مطابق عالمی منڈی میں لیکویڈیٹی کم ہونے کے باعث نان باسمتی چاول، جو پہلے تقریباً 550 ڈالر فی ٹن برآمد ہوتا تھا، اب لگ بھگ 350 ڈالر فی ٹن میں فروخت ہوا۔
مالیت کے لحاظ سے چاول کی برآمدات میں کمی مزید شدید رہی اور ڈالر کی بنیاد پر 49.24 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ آئی آر آر آئی-6 اور آئی آر آر آئی-9 کی برآمدات مالیت کے لحاظ سے 53.23 فیصد گھٹیں، جبکہ باسمتی چاول کی برآمدات میں 37.58 فیصد کمی ہوئی۔
بھارتی چاول کی عالمی منڈیوں میں دوبارہ واپسی کے نتیجے میں رسد میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے عالمی قیمتوں پر دباؤ پڑا اور قیمت کے لحاظ سے حساس منڈیوں میں پاکستانی چاول کو نقصان پہنچا۔
مالی سال 2025-26 کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ 37 فیصد سے زائد بڑھ کر 15.47 ارب ڈالر ہو گیا، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 11.28 ارب ڈالر تھا۔ اس دوران برآمدات میں بھی 6 فیصد سے زائد کمی آ کر 12.84 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں برآمدات 13.72 ارب ڈالر تھیں۔
عارف حبیب کموڈٹیز کے چیف ایگزیکٹو احسن محنتی نے کہا کہ سیلاب کے باعث فصلوں کو نقصان پہنچنے سے چاول کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں سافٹ کموڈٹیز کی قیمتوں میں کمی بھی برآمدات گھٹنے کی ایک بڑی وجہ بنی، جبکہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ عرصے میں سیلاب کے اثرات کم ہونے اور بھارت پر عائد بلند ٹیرف اور امریکا میں بھارتی چاول پر ڈمپنگ کے الزامات کے باعث پاکستان کی برآمدات میں بہتری آئے گی۔
ادھر پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (پی آر اے سی) کے ہیڈ آف ریسرچ ڈاکٹر اسامہ احسان خان نے بتایا کہ نومبر 2024 کے 431.37 ملین ڈالر کے مقابلے میں نومبر 2025 میں پاکستان کی چاول برآمدات 56 فیصد کم ہو کر 188.13 ملین ڈالر رہ گئیں۔
ان کے مطابق مجموعی 243.25 ملین ڈالر کی کمی میں سے 195.85 ملین ڈالر کی کمی چاول کی برآمد ہونے والی مقدار کم ہونے کی وجہ سے ہوئی، جبکہ 47.40 ملین ڈالر کی کمی عالمی منڈی میں قیمتوں کے گرنے کے سبب ہوئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ برآمدات میں کمی کی اصل وجہ زیادہ تر مقدار میں کمی رہی، نہ کہ صرف قیمتوں میں کمی۔
ڈاکٹر اسامہ احسان خان نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے چاول برآمدات پر پابندیاں ہٹانے کے بعد عالمی مسابقت میں شدت آئی، جس سے پاکستانی چاول کو نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق اندرونی پالیسیوں نے بھی برآمدات پر منفی اثر ڈالا، خصوصاً فائنل ٹیکس رجیم سے نارمل ٹیکس رجیم میں منتقلی نے برآمدکنندگان کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا۔ پہلے ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس تھا، جبکہ اب 29 فیصد کارپوریٹ انکم ٹیکس اور 10 فیصد تک سپر ٹیکس عائد ہے، جس سے منافع میں کمی اور ریگولیٹری خدشات بڑھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں برآمدی فنانسنگ کی لاگت بھی بھارت کے مقابلے میں تقریباً 600 بیسس پوائنٹس زیادہ ہے، جس کے باعث پاکستانی برآمدکنندگان کی قیمتوں میں مسابقت مزید کمزور ہو گئی، جبکہ بھارتی برآمدکنندگان کو سبسڈی اور بہتر پالیسی ماحول حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیکسیشن، فنانسنگ لاگت اور ریگولیٹری استحکام جیسے ساختی مسائل حل نہ کیے گئے تو چاول کی عالمی تجارت میں پاکستان کا مارکیٹ شیئر مزید کم ہونے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ امریکا میں کم قیمت پر چاول فروخت کر رہا ہے، تاہم بھارت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کی برآمدات زیادہ تر اعلیٰ معیار کے باسمتی چاول پر مشتمل ہے جو عموماً نان باسمتی کے مقابلے میں زیادہ قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔