بدقسمتی کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ پی آئی اے کی نجکاری مکمل ہو گئی۔ یہ ملک کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ پی آئی اے کی تاریخ جو بھی رہی ہو، یہ حکومت کے ہاتھوں میں ایک دم توڑتا ہوا اثاثہ تھا جسے اب ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔ اب یہ ایئرلائن بچ جائے گی اور اس کا انجام پاکستان اسٹیل ملز جیسا نہیں ہوگا۔

بولی کے طویل دوسرے مرحلے کے بعد جسے ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں پی آئی اے کے 75 فیصد حصص خرید لیے (یہ رقم ان کی ابتدائی بولی سے 20 ارب روپے اور مقررہ ریفرنس پرائس سے 35 ارب روپے زیادہ ہے)۔ حکومت کو 10 ارب روپے نقد موصول ہوں گے، جبکہ بقیہ رقم مرحلہ وار طریقے سے کمپنی میں ہی سرمایہ کاری کے طور پر لگائی جائے گی۔

پی آئی اے کی کل مالیت 180 ارب روپے لگائی گئی ہے اور اگر کامیاب بولی دہندہ بقیہ 25 فیصد حصص خریدنے کا انتخاب کرتا ہے تو حکومت کو مزید 45 ارب روپے موصول ہوں گے۔

فروخت کیے گئے ادارے میں صرف پی آئی اے کے آپریشنل اثاثے (طیارے اور متعلقہ آلات) شامل ہیں، تمام دیگر رئیل اسٹیٹ اثاثے (بشمول خالی پلاٹ) اس سودے سے الگ کر لیے گئے ہیں۔ اس میں رئیل اسٹیٹ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ پی آئی اے کی آپریشنل کارکردگی مسلسل تنزلی کا شکار رہی ہے۔ موجودہ انتظامیہ حالیہ بزنس پلان پر عمل درآمد کرنے کے قریب بھی نہیں ہے۔ اگرچہ کاغذات میں پی آئی اے کے پاس 38 طیارے ہیں، لیکن صرف 18 فعال ہیں، اور وہ بھی پرانے ہو چکے ہیں جنہیں بڑے پیمانے پر دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔

خسارے میں ڈوبے ہوئے اس ادارے میں بہتری کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ مقامی مارکیٹ میں ترقی کے مواقع محدود ہیں، اصل موقع مخصوص بین الاقوامی روٹس میں ہے جہاں پی آئی اے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو براہِ راست پروازوں کے آپشن فراہم کر سکتی ہے۔ اپریل میں لندن کے لیے براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع ہوسکتی ہیں جس کے بعد پیرس کی باری آسکتی ہے۔ پی آئی اے شمالی امریکہ اور یورپ کے مخصوص مراکز کے لیے اپنی پروازوں میں اضافہ کر سکتی ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی مارکیٹ، بالخصوص سعودی عرب سے بھی فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

تاہم یہ سب کچھ پرانے اور محدود تعداد والے طیاروں کے ساتھ ممکن نہیں ہے۔ خریدار کو بیڑے کو وسعت دینی ہوگی اور بہتر طیارے شامل کرنے ہوں گے۔ پی آئی اے کے ایچ آر ڈھانچے کو بھی مکمل طور پر بدلنے کی ضرورت ہے۔ عارف حبیب گروپ کے پاس موجودہ ملازمین کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے بارہ ماہ کا وقت ہے (کیونکہ وہ اس مدت کے دوران کسی کو نکال نہیں سکتے) اور وہ صرف بہتر کارکردگی والے ملازمین کو برقرار رکھ سکیں گے۔ اس دوران، وہ بین الاقوامی تجربہ رکھنے والا نیا ٹیلنٹ بھی شامل کر سکتے ہیں۔ پہلا قدم ایئرلائن چلانے کے لیے ایک مضبوط ٹیم تشکیل دینا ہونا چاہیے۔

عارف حبیب گروپ کمپنی میں خاطرخواہ سرمایہ لگانے جا رہا ہے، جو بحالی کے عمل کا آغاز کرنے کے لیے بظاہر کافی ہونا چاہیے۔ گروپ کے پاس مضبوط مالی صلاحیت موجود ہے، تاہم یہ ایک پیچیدہ کاروبار ہے اور اس زوال پذیر اثاثے کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے مناسب نگرانی، مؤثر حکمتِ عملی اور مضبوط حفاظتی انتظامات (گارڈ ریلز) ناگزیر ہوں گے۔

کل عارف حبیب گروپ نے جارحانہ انداز میں بولی لگائی اور واضح طور پر یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ کسی بھی قیمت پر اس اثاثے کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لکی گروپ نے دستبرداری اختیار کی کیونکہ کنسورشیم کے خیال میں 120 ارب روپے سے زائد کی قیمت پر منافع کی توقع کم ہو گئی تھی۔ کامیاب گروپ کے پاس غالباً دیگر منصوبے بھی ہوں گے۔

یہ حکومت اور نجکاری کمیشن کی ٹیم کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے نسبتاً ہموار لین دین کے ذریعے ایک بڑا بریک تھرو حاصل کیا ہے۔ اب اصل چیلنج آگے ہے، توانائی شعبے میں سرکاری اداروں سے نمٹنا، جہاں گہری ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

کامیاب خریدار اور نجکاری کمیشن کے لیے نیک خواہشات۔