کاروبار اور معیشت

پاکستان فروری 2026 میں ڈی سی او کونسل کی صدارت سنبھالے گا

  • اسلامی جمہوریہ پاکستان ڈی سی او کے بانی اراکین میں شامل ہے
شائع December 22, 2025 اپ ڈیٹ December 22, 2025 04:13pm

پاکستان 2026 میں ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈی سی او) کونسل کی صدارت سنبھالنے جا رہا ہے، جبکہ یہ کثیر الجہتی ڈیجیٹل بلاک اپنا پانچواں جنرل اسمبلی اجلاس 4–5 فروری کو کویت میں منعقد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

ڈی سی او کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ دو روزہ اجلاس ڈی سی او کا سب سے اہم سالانہ موقع ہے، جس میں رکن ممالک کے وزراء، مبصرین، شراکت دار، پالیسی ساز، سی ای اوز، اختراعی شخصیات اور 60 سے زائد ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے ،تاکہ عالمی ڈیجیٹل ایجنڈا کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔

پانچواں جنرل اسمبلی اجلاس تنظیم کے لیے کامیابیوں کا جائزہ لینے، اسٹریٹجک رہنمائی وضع کرنے اور 2025–2028 کے چار سالہ ایجنڈے کے مطابق نئے اقدامات شروع کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

بیان کے مطابق اجلاس کے دوران ڈی سی او کونسل کی صدارت کی روایتی منتقلی بھی ہوگی، جس میں کویت سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو 2026 کے لیے صدارت سونپی جائے گی۔

ڈی سی او ایک عالمی ادارہ ہے جو 2020 میں سعودی عرب نے قائم کیا ،تاکہ جامع ڈیجیٹل ترقی کو فروغ دیا جا سکے، ممالک کو ڈیجیٹل مواقع سے جوڑا جا سکے اور بین الاقوامی تعاون اور کثیر اسٹیک ہولڈر شراکت کے ذریعے مشترکہ ڈیجیٹل خوشحالی کو بڑھایا جا سکے۔

پاکستان ابتدائی پانچ ممالک میں شامل تھا، جن میں سعودی عرب، بحرین، اردن اور کویت بھی شامل تھے، جنہوں نے نومبر 2020 میں ڈی سی او کا آغاز کیا۔ جنوبی ایشیا کا یہ ملک 2025 میں ڈی سی او کا ڈیجیٹل فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (ڈی ایف ڈی آئی) فورم بھی میزبان رہا، جس میں عالمی رہنماؤں اور سرمایہ کاری کے وعدوں نے شرکت کی۔

کویت کے وزیرِ مواصلات اور ڈی سی او کونسل کے چیئرمین عمر سعود العُمر نے کہا کہ پانچواں جنرل اسمبلی اجلاس اور دوسرا انٹرنیشنل ڈیجیٹل کوآپریشن فورم منعقد کرنا عالمی اقتصادی تبدیلیوں، خصوصاً مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تیز رفتار تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے کثیر الجہتی تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

ڈی سی او کی سیکریٹری جنرل ڈیمہ الیحیا نے کہا کہ پانچواں جنرل اسمبلی اجلاس اور دوسرا انٹرنیشنل ڈیجیٹل کوآپریشن فورم کویت میں عالمی ڈیجیٹل کمیونٹی کے لیے ایک نمایاں لمحہ اور ہمارے اجتماعی سفر میں فخر کا سنگِ میل ہے۔

توقع ہے کہ 100 سے زائد ادارے اور شراکت دار تنظیمیں اس اجلاس میں شرکت کریں گے، جو تعاون اور مکالمے کو مزید فروغ دے گا۔