فوکوشیما حادثے کے 15 سال بعد جاپان دنیا کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کو دوبارہ چلانے کی تیاری میں مصروف
- فوکوشیما سانحے کے بعد جاپان اب تک قابلِ استعمال رہنے والے 33 میں سے 14 جوہری ری ایکٹر دوبارہ فعال کر چکا ہے، کیونکہ ملک درآمدی فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے
جاپان نے دنیا کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کو دوبارہ چلانے کی اجازت دینے کا آخری مرحلہ طے کر لیا، جب نیگاٹا کے علاقے نے اس کی بحالی کے حق میں ووٹ دے دیا۔ یہ فیصلہ فوکوشیما جوہری حادثے کے تقریباً 15 سال بعد جاپان کی جوہری توانائی کی طرف واپسی میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
کاشیوازاکی-کاریوا جوہری پلانٹ، جو ٹوکیو سے تقریباً 220 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے، ان 54 ری ایکٹرز میں شامل تھا جنہیں 2011 کے زلزلے اور سونامی کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ اس سانحے کے بعد جاپان اب تک قابلِ استعمال 33 میں سے 14 ری ایکٹر دوبارہ شروع کر چکا ہے ،تاکہ درآمدی فوسل ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔
یہ پلانٹ ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) کے زیرِ انتظام ہو گا، جو فوکوشیما پلانٹ بھی چلاتی تھی۔ پیر کے روز نیگاٹا اسمبلی نے گورنر ہیدیئو ہانازومی پر اعتماد کی قرارداد منظور کی، جس کے بعد پلانٹ کی بحالی کی راہ ہموار ہو گئی۔
ووٹنگ سے قبل تقریباً 300 مظاہرین، جن میں زیادہ تر معمر افراد شامل تھے نے پلانٹ کے خلاف احتجاج کیا۔ دوسری جانب ٹیپکو نے یقین دہانی کرائی کہ وہ کسی بھی حادثے کی تکرار نہیں ہونے دے گی، تاہم ایک سرکاری سروے کے مطابق 60 فیصد مقامی آبادی اب بھی بحالی کے حق میں نہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ جوہری توانائی توانائی کے تحفظ، بڑھتی ہوئی طلب اور کاربن اخراج میں کمی کے اہداف کے لیے ناگزیر ہے، مگر فوکوشیما کے متاثرین اب بھی اس کے خطرات کو نظر انداز کرنے پر آمادہ نہیں۔