نامکمل دستاویزات رکھنے والوں اور بھیکاریوں کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد
- وزیر داخلہ کا لاہور ائیرپورٹ پر امیگریشن عمل کا جائزہ، تاخیر کا شکار مسافروں کے لیے فوری ریلیف کا حکم
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پیشہ ور بھکاری یا نامکمل دستاویزات رکھنے والے افراد کو بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ یہ پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں،ان کا اصل مقام جیل ہے۔
وزیر داخلہ نے لاہور ائیرپورٹ کا دورہ کرتے ہوئے مسافروں کے بیرون ملک سفر کے لیے امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلّال چوہدری بھی ہمراہ تھے۔
انہوں نے امیگریشن کاؤنٹرز کا معائنہ کیا، عملے کے ساتھ ملاقات کی، مسافروں سے بھی امیگریشن کے عمل کے بارے میں معلومات لیں اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ایک اہلکار کی عمدہ کارکردگی کی تعریف کی۔
ایک مسافر نے شکایت کی کہ چیکنگ میں تاخیر کی وجہ سے اس کی بورڈنگ بند کر دی گئی تھی، جس پر وزیر داخلہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ کویت جانے والے مسافر کی بورڈنگ کو فوراً آسان بنایا جائے۔ مسافروں نے بتایا کہ امیگریشن کا عمل اب چند منٹوں میں مکمل ہو رہا ہے۔
اس موقع پر ریجنل ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور علی ضیا اور ڈپٹی ڈائریکٹر ائیرپورٹ اویس بھی موجود تھے۔
ڈی جی ایف آئی اے راجہ رفعت مختار نے بدھ کو بتایا کہ غیر قانونی ہجرت اور بھکاریوں کے نیٹ ورک پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس رجحان کی وجہ سے اس سال 66,154 مسافروں کو ائیرپورٹ پر اترنے سے روک دیا گیا،یہ تعداد گزشتہ سال کی 35,000 کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے یہ حیران کن اعداد و شمار قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیوں اور ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ کے اجلاس میں پیش کیے، جس کی صدارت سید رفیع اللہ نے کی۔
ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مجموعی طور پر 56,000 بھکاریوں کو ملک بدر کیا گیا اور یواے ای نے ویزوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔