پاکستان

پاکستان نے شمالی وزیرستان میں دہشت گرد حملے کے بعد افغان نائب سربراہ کو احتجاجی مراسلہ جاری کردیا

  • افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا جواب دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے، اسلام آباد کا انتباہ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے جمعہ کے روز افغان مشن کے نائب سربراہ کو احتجاجی مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت کی طرف سے فتنہ الخوارج/تحریکِ طالبان پاکستان ( ایف اے کے/ ٹی ٹی پی ) کو جاری سہولت اور مدد پر شدید تشویش ہے۔

یہ اقدام اُس وقت سامنے آیا جب اسی دن شمالی وزیرستان میں دہشت گرد حملے میں چار پاکستانی فوجی شہید ہو گئے۔

شمالی وزیرستان خیبر پختونخوا کے بنوں ڈویژن کا ایک ضلع ہے۔ یہ وزیرستان کا شمالی حصہ ہے، شمال مغربی پاکستان کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے اور اس کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان آج شمالی وزیرستان ضلع میں پاکستان فوج کے کیمپ پر خوارج گروپ گل بہادر کے خوارج کے ذریعے کیے گئے دہشت گردانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جس کے نتیجے میں چار پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔ اپنے احتجاجی موقف کے اظہار کے لیے افغان نائب مشن کے سربراہ کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا۔

  • سفارتی روایت میں احتجاجی مراسلات ایک ایسا عمل ہیں جس میں بھیجنے والے ملک کا سفارتکار وصول کنندہ ملک کے اعلیٰ حکام کو اپنے حکومت کے موقف سے آگاہ کرتا ہے یا ان سے کسی معاملے پر وضاحت، کوئی کارروائی، رویہ، موقف یا فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی طرف سے فتنتہ الخوارج/ٹی ٹی پی کو جاری سہولت اور مدد پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جس کے نتیجے میں یہ گروہ پاکستان فوج اور شہری آبادی کے خلاف پاکستان افغان سرحد اور متصل علاقوں میں دہشت گردانہ حملے کر رہا ہے۔

بیان میں زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں ایف اے کے/ ٹی ٹی پی کو ملنے والا آزادانہ ماحول افغانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور پاکستان کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے منافی ہے، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی اور ملک، بشمول پاکستان، کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔

اسلام آباد نے مطالبہ کیا کہ افغانستان کی سرزمین سے کیے جانے والے دہشت گرد حملوں کے مرتکب اور سہولت کاروں کے خلاف مکمل تحقیقات اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے کام کرنے والے تمام دہشت گرد گروپوں، بشمول ان کی قیادت، کے خلاف فوری، ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرے اور پاکستان کے خلاف افغان زمین کے استعمال کو ختم کرے۔

افغان طالبان حکومت کو یہ بھی واضح طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتا ہے اور افغان سرزمین سے شروع ہونے والے دہشت گردی کے خلاف تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

بزدلانہ اور سنگین دہشت گردانہ کارروائی

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ( آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 19 دسمبر 2025 کو ایک بزدلانہ اور سنگین دہشت گردانہ کارروائی میں، بھارتی حمایت یافتہ فتنے الخوارج کے خوارج نے شمالی وزیرستان ضلع کے عام علاقے بویا میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے کیمپ کی بیرونی سیکیورٹی کو توڑنے کی کوشش کی، تاہم ان کے شیطانی منصوبے اپنی فوجی جوانوں کی ہوشیار اور پختہ کارروائی سے جلد ناکام ہو گئے۔

مایوسی کے عالم میں حملہ آوروں نے ایک بم سے بھری گاڑی کو بیرونی دیوار سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دیوار منہدم ہو گئی اور آس پاس کے شہری انفراسٹرکچر بشمول ایک مسجد کو قابلِ ذکر نقصان پہنچا۔ اس وحشیانہ کارروائی سے پندرہ مقامی شہری زخمی ہوئے، جن میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔“

بے مثال بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے حملہ آوروں کا موثر طور پرمقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں بھارتی حمایت یافتہ فتنتہ الخوارج کے چار کارندے جہنم واصل کردیئےگئے۔

تاہم، شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران بہادر سپوتوں ضلع کوٹلی کے رہائشی 42 سالہ حوالدار محمد وقاص ، ضلع مانسہرہ کے رہائشی 38 سالہ نائک خان وائز،ضلع وہاڑی کے رہائشی 25 سالہ سپاہی سفیان حیدر اور ضلع لیہ کے رہائشی سپاہی رفعت نے بہادری کے ساتھ لڑائی کی اورباالاخرعظیم قربانی دیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کی یہ گھناؤنی کارروائی، جو افغانستان میں مقیم خوارج کی منصوبہ بندی اور قیادت میں کی گئی، افغان طالبان حکومت کے ان دعوؤں کے بالکل برعکس ہے کہ ان کی سرزمین سے کوئی دہشت گرد گروپ کام نہیں کر رہا۔

عسکری ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج کو اپنی زمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے، کیونکہ پاکستان کے عوام کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ پاکستان اپنے عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ان خوارج اور ان کے سہولت کاروں و وابستگان کا تعاقب کرنے اور انہیں ختم کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔