کاروبار اور معیشت

ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے شدید احتجاج کے بعد ایف بی آر نے متنازع ایس آر او 31 جنوری تک معطل کر دیا

  • متنازع ایس آر او کے باعث جائیدادوں کی منتقلی رکی ہوئی تھی، نظرثانی کے لیے ویلیوایشن ٹیبل دوبارہ جانچنے کا فیصلہ
شائع اپ ڈیٹ

کاروباری برادری اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے شدید احتجاج کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے متنازع نوٹیفکیشن ایس آر او 2392(I)/2025 کو 31 جنوری 2026 تک معطل کر دیا ہے۔ اس ایس آر او کے تحت وفاقی دارالحکومت کی حدود میں غیر منقولہ جائیدادوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا تھا۔

اس سلسلے میں جاری ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق متنازع ایس آر او کے اجرا کے بعد 8 دسمبر سے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) میں غیر منقولہ جائیدادوں کی منتقلی کا عمل رک گیا تھا۔

رئیل اسٹیٹ کے ماہر احسن ملک نے امید ظاہر کی ہے کہ ایس آر او 2392(I)/2025 کی معطلی کے بعد سی ڈی اے میں جائیدادوں کی منتقلی کا عمل دوبارہ شروع ہو جائے گا۔

ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق 29 اکتوبر 2024 کو پاکستان بھر کے لیے ویلیوایشن ٹیبلز میں نظرِثانی کی گئی تھی، تاہم وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) میں دائر ایک شکایت کے باعث ضلع اسلام آباد کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ بعد ازاں 8 دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں غیر منقولہ جائیدادوں کی منصفانہ مارکیٹ ویلیوز کے تعین کے لیے ایس آر او جاری کیا گیا۔

تاہم رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز اور دیگر فریقین نے ایف بی آر سے رجوع کرتے ہوئے ویلیوایشن ٹیبل پر نظرثانی کا مطالبہ کیا کیونکہ بعض علاقوں میں درج کی گئی قیمتیں اصل مارکیٹ ویلیوز سے کہیں زیادہ تھیں۔

ایف بی آر کے مطابق بعض معاملات کا جائزہ لیا گیا اور رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز کی جانب سے اٹھائے گئے کچھ اعتراضات درست پائے گئے۔

اسی بنا پر ضلع اسلام آباد کے لیے ویلیوایشن ٹیبل کا ازسرِنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

چنانچہ مذکورہ ایس آر او کو 31 جنوری 2026 تک یا اسلام آباد کے لیے منصفانہ مارکیٹ ویلیوز پر مبنی نظرثانی شدہ ایس آر او کے اجرا تک (جو بھی پہلے ہو) معطل رکھا جائے گا۔ اس درمیانی مدت میں ایس آر او 1180(I)/2022 مؤرخہ 27 جولائی 2022 (جسے ایس آر او 1610(I)/2022 مؤرخہ 25 اگست 2022 کے ذریعے ترمیم کیا گیا تھا) نافذ العمل رہے گا۔

ایف بی آر نے مزید بتایا کہ یہ فیصلہ مجاز اتھارٹی کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025